خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 690 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 690

خطبات مسرور جلد 13 690 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء تھی لیکن احباب نے بڑی قربانی کر کے تکلیف اٹھا کر یہ رقم ادا کی۔جو پہلے دے چکے تھے انہوں نے بھی پوری کوشش کی اور جو کچھ میسر تھالا کے پیش کر دیا اور اس طرح تقریباً سات لاکھ ڈالر جمع ہو گئے۔ایک نوجوان طالبعلم پارٹ ٹائم جاب کر رہے ہیں۔اتنی ہزار یکین ان کو تنخواہ ملتی ہے۔اس میں سے ہر مہینے پچاس ہزار یکین مسجد کے لئے ابھی تک پیش کرنے کی توفیق پارہے ہیں یا جب تک رپورٹ تھی اس وقت تک دیتے رہے۔احمدی بچے بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں۔اپنی جیب خرچ لا کر مسجد کے لئے چندہ پیش کرتے رہے۔اور بچوں میں سب سے زیادہ قربانی ایک بچی نے کی ہے جس نے مختلف کرنسیوں کی صورت میں مختلف وقتوں میں جو اس کو تحفے تحائف اپنے بڑوں سے ملتے رہے وہ دیئے اور اس طرح جو رقم اس نے جمع کی ہوئی تھی وہ جمع کی گئی تو نو ہزار ڈالر کے قریب رقم بنی جو اس نے پیش کر دی۔احمدی خواتین نے بڑی قربانیاں کیں۔اپنے زیور پیش کر دیئے۔اور ایک خاتون نے تو اپنی چو ہمیں چوڑیاں پیش کر دیں۔پھر ایک اور ہیں انہوں نے اپنے زیورات جوان کی والدہ کی طرف سے ملے تھے وہ دے دیئے۔ایک خاتون جو پاکستان سے آئی ہیں انہوں نے اپنے زیور کا نیا سیٹ مسجد کے لئے پیش کر دیا جو انہوں نے جنوری میں ہی اپنی بیٹی کی شادی کے لئے خریدا تھا۔اللہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں کو اپنی جناب سے بے انتہا نوازے۔ان کے اموال میں برکت دے۔ان کے نفوس میں برکت دے۔انہیں ایمان اور یقین میں بڑھاتا چلا جائے اور ان سب کو اس مسجد کا حق ادا کرنے والا بنائے۔یہ مسجد جہاں ان کی عبادت کے معیار بلند کرے وہاں یہ آپس میں محبت پیار میں بھی بڑھنے والے ہوں اور اس محبت اور پیار کو دیکھ کر دوسروں کی بھی اس طرف توجہ پیدا ہو۔غیر از جماعت ہمسایوں نے بھی بڑا محبت اور خلوص کا اظہار کیا ہے۔ایک جاپانی دوست کو جب علم ہوا کہ افتتاح میں شرکت کے لئے بیرون ملک سے کافی تعداد میں مہمان آ رہے ہیں تو انہوں نے اپنا ایک بہت بڑا گھر جو تین منزلہ گھر ہے جماعت کو پیش کر دیا کہ اپنے مہمان اس میں ٹھہرائیں۔اسی طرح مسجد کے ہمسایوں کو جب پتا چلا کہ یہاں مسجد کے افتتاح کے لئے کثرت سے مہمانوں کی توقع ہے تو انہوں نے جماعت کے لئے کاروں کی پارکنگ کے لئے اپنی پارکنگ کی جگہ دے دی۔بالعموم جاپانی لوگ کسی بھی عمارت کے افتتاح وغیرہ کے موقع پر اس عمارت کو نہایت قیمتی پھولوں سے سجاتے ہیں۔جب دو جاپانی دوستوں کو پتا چلا کہ جاپان کی جماعت احمدیہ کی مسجد کا افتتاح ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر مسجد کو پھولوں سے سجانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے پوری مدد کی۔