خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد 13 46 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء فوارہ سے جوش مارے۔“ ( اس کا رسم اور عادت کا گند جو ہے رسم اور عادت کا اس سے پاک کریں اور دل سے نکلنے والی محبت جو ہے وہ فوارے کی طرح پھوٹ رہی ہو۔فرمایا ” مثلاً درود شریف اس طور پر نہ پڑھیں کہ جیسا عام لوگ طوطے کی طرح پڑھتے ہیں۔نہ ان کو جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کامل خلوص ہوتا ہے اور نہ وہ حضور تام سے اپنے رسول مقبول کے لئے برکات البہی مانگتے ہیں فرمایا کہ بلکہ درود شریف سے پہلے اپنا یہ مذہب قائم کر لینا چاہئے کہ رابطہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ہرگز اپنا دل یہ تجویز نہ کر سکے کہ ابتدائے زمانہ سے انتہا تک کوئی ایسا فرد بشر گزرا ہے جو اس مرتبہ محبت سے زیادہ محبت رکھتا تھا یا کوئی ایسا فرد آنے والا ہے جو اس سے ترقی کرے گا۔( یہ محبت ایسی ہو کہ بہت سوچنے کے بعد بھی کبھی دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو سکے کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ایسا تھا جس سے ایسی محبت پیدا ہو سکے، نہ کبھی آئندہ پیدا ہو سکتا ہے جس سے اس شدت سے محبت کی جاسکے یا کوئی ایسا فرد آنے والا ہے جو اس سے ترقی کرے گا ) ” اور قیام اس مذہب کا اس طرح پر ہوسکتا ہے کہ جو کچھ محبان صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مصائب اور شدائد اٹھاتے رہے ہیں یا آئندہ اٹھاسکیں یا جن جن مصائب کا نازل ہونا عقل تجویز کر سکتی ہے وہ سب کچھ اٹھانے کے لئے دلی صدق سے حاضر ہو۔( یہ صورت کس طرح پیدا ہوگی کہ جو کچھ مصیبتیں پہلے اٹھائی جاسکتی ہیں یا کوئی عقل تجویز کرسکتی ہے کہ یہ مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں دلی سچائی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں وہ مشکلات اور مصیبتیں اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے۔فرمایا اور کوئی ایسی مصیبت عقل یا قوت واہمہ پیش نہ کر سکے کہ جس کے اٹھانے سے دل رک جائے۔اور کوئی ایسا حکم عقل پیش نہ کر سکے کہ جس کی اطاعت سے دل میں کچھ روک یا انقباض پیدا ہو۔اور کوئی ایسا مخلوق دل میں جگہ نہ رکھتا ہو جو اس جنس کی محبت میں حصہ دار ہو۔اور جب یہ مذہب قائم ہو گیا۔(اس طرح ایمان ترقی کر گیا ” تو در و د شریف جیسا کہ میں نے زبانی بھی سمجھایا ہے ( آپ اس مرید کولکھ رہے ہیں ) اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اس کو تمام عالم کے لئے سر چشمہ برکتوں کا بناوے اور اس کی بزرگی اور اس کی شان وشوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے۔یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے۔“ (بڑے دل کی گہرائی سے ہونی چاہئے ، توجہ سے ہونی چاہئے ) جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا