خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 605

خطبات مسرور جلد 13 605 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء خوابوں کے ذریعہ قبول احمدیت پس یہ خدا تعالیٰ کی رہنمائی ہے جو وہ سعید فطرت لوگوں کی کرتا ہے۔آج جب تبلیغ کے وسائل اس وقت کی نسبت بہت زیادہ ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں تھے لیکن پھر بھی جو رہنمائی اللہ تعالیٰ لوگوں کی رؤیا اور خوابوں کے ذریعہ فرماتا ہے اس کا دلوں کو کھولنے میں بہت بڑا حصہ ہے۔بیشک تبلیغ بھی اس پر اثر کرتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ چاہے لیکن اللہ تعالیٰ براہ راست رہنمائی کے سامان بھی کرتا ہے اور آج بھی بیشمار لوگ ہیں جن کی اس طرح رہنمائی ہوئی اور ہورہی ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو مانتے ہیں، آپ کی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔اس وقت میں گزشتہ سال میں ہونے والے بعض ایسے واقعات کی مثالیں پیش کرتا ہوں۔بہت سارے واقعات میں سے چند ایک لئے ہیں جن کی خوابوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی۔حیرت ہوتی ہے ان لوگوں کی باتیں سن کر کہ قادیان سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ بعض تو ایسے علاقوں میں ہیں جہاں کسی طرح کا نظام رسل و رسائل اور مواصلات بھی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرما رہا ہے۔ایک چھوٹا سا آئی لینڈ ہے ماریشس کے پاس مایوٹے (Mayote)۔وہاں مبلغ دورے پر گئے تو کہتے ہیں کہ ایک غیر احمدی دوست نے خواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا۔کچھ عرصے بعد انہیں ایم ٹی اے دیکھنے کا موقع ملا تو ایم ٹی اے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ کر فوراً کہنے لگے کہ یہی تو وہ بزرگ ہیں جنہیں میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اس طرح ان کو یقین ہو گیا کہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔چنانچہ جب ان کو اس کے اور احمدیت کے بارے میں بتایا گیا تو وہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔اسی طرح گئی کنا کری افریقہ کا ایک اور دور دراز بالکل دوسری طرف ملک ہے۔یہاں شہر میں ایک یو نیورسٹی کے طالبعلم سلیمان صاحب تھے۔لمبے عرصہ سے زیر تبلیغ تھے لیکن بیعت نہیں کر رہے تھے۔ایک دن وہ آئے اور کہا کہ اب میں مطمئن ہوں اور بیعت کرنا چاہتا ہوں۔جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح مطمئن ہوئے تو انہوں نے اپنی خواب بیان کی کہ میں ایک کشتی میں سوار ہوں اور ہماری کشتی کے قریب ایک دوسری کشتی ڈوب رہی ہے اور اس کے مسافر ہمیں مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ہم ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ ہماری کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں۔ہم جس میز کے گرد بیٹھے ہیں وہاں امام مہدی علیہ السلام