خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 606
خطبات مسرور جلد 13 606 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء بھی موجود ہیں۔خواب میں یہ دیکھتے ہیں کہ ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام موجود ہیں اور پینے کے لئے دودھ کا پیالہ دیتے ہیں۔کہتے ہیں میں نے وہ پیالہ لیا اور خوب پیٹ بھر کر دودھ پیا جس کا ذائقہ نہایت عمدہ تھا۔اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں سمجھ گیا کہ یہ زندگی بخش جام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کشتی میں سوار ہونے اور آپ کی بیعت کرنے کے نتیجہ میں ہی حاصل ہو سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے بیعت کی۔اسی طرح ایک ملک آئیوری کوسٹ ہے۔یہاں کے ایک رہائشی اللسان (Alassane) صاحب ہیں۔انہوں نے ایک خواب بیان کی کہ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا مجمع ہے۔میرا ایک ساتھی مجھے کہتا ہے کہ اس مجمع میں امام مہدی بھی ہیں۔جس کی وجہ سے میں امام مہدی سے ملنے کا ارادہ کرتا ہوں۔میرا ساتھی مجھے کہتا ہے کہ امام مہدی سے ملنے سے پہلے احمدیت قبول کر لو۔چنانچہ میں خواب میں ہی بیعت کر لیتا ہوں۔اس کے بعد جب میں مجمع کے قریب ہوتا ہوں تو واقعی اس میں امام مہدی علیہ السلام کو دیکھتا ہوں کہ آپ تبلیغ کر رہے ہیں۔اس خواب کے بعد اللسان تر اؤرے صاحب بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔پھر ہندوستان، ساؤتھ انڈیا کا جو کیرالہ کا علاقہ ہے ، اس میں ایک نو مبائع دوست کو ایم ٹی اے اور خواب کے ذریعہ احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔یہ لکھنے والے وہاں کے صدر جماعت ہیں۔پانچ ماہ قبل جب انہوں نے رپورٹ بھیجی تو لکھتے ہیں کہ موصوف اپنے گھر میں کیبل کے ذریعہ ٹی وی دیکھا کرتے تھے۔اچانک ان کو ایم ٹی اے دیکھنے کا موقع ملا۔ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔یہ دوست عبد الحمید صاحب تھے جو احمدی ہوئے۔یہ طریقت مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور ایک پیر صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی۔کہتے ہیں ایم ٹی اے دیکھتے ہوئے ابھی ایک دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کر رہے ہیں۔وہاں انہوں نے اپنے پیر صاحب کو بھی زیارت کرتے ہوئے دیکھا جو فوت ہو چکے ہیں۔اس خواب کے بعد یہ کہتے ہیں کہ جماعت کا پتا کرتے ہوئے صدر جماعت کے پاس آئے۔بیعت کے لئے اصرار کیا۔انہوں نے مزید مطالعہ کا کہا۔پھر امیر ضلع کے پاس گئے۔انہوں نے بھی مزید مطالعہ کا کہا۔پھر یہ قادیان بھی پہنچ گئے اور وہاں جا کے بیعت کر لی۔اسی طرح تیونس جو نارتھ افریقہ کا ملک ہے، یہاں کے ایک دوست قادر صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ میں جماعت سے متاثر تو تھا لیکن بیعت کی طرف میرا دل نہیں جاتا تھا۔تسلی نہیں تھی کہ بیعت کروں۔کیوں؟ اس لئے کہ امام مہدی کو نبی کے طور پر ماننے کے لئے تیار نہیں تھا اور یہی چیز بنیادی چیز ہے۔اگر