خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 82 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 82

خطبات مسرور جلد 13 82 6 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء بمطابق 06 تبلیغ 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے پڑھنے کے منفی اور مثبت اثرات جس طرح جس سوچ کے ساتھ انسان پڑھتا ہے اسی طرح کے اثرات قائم ہوتے ہیں۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ” مجھے ایک واقعہ یاد ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے۔آپ بیان فرما رہے تھے کہ ڈیبیٹنگ سوسائٹیز (debating societies) جوڈیبیٹ (debate) کرتی ہیں اور بلا وجہ ایک مقر رحق میں بولتا ہے، دوسرا خلاف بولتا ہے۔اس سے بعض دفعہ سوچوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔کیونکہ جو بھی بولنے والے ہیں وہ وہ نہیں کہہ رہے ہوتے جو ان کے دل میں ہوتا ہے بلکہ ایک مقابلے کی صورت ہوتی ہے جس میں بولنا ہوتا ہے۔تو بہر حال اس کا بیان فرماتے ہوئے کہ یہ باتیں بعض دفعہ ایمان میں خرابی کا باعث بن جاتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوسنایا کہ مولوی بشیر احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت مؤید تھے اور کہتے ہیں کہ میں بہت مخالف تھا۔( یعنی مولوی محمد احسن صاحب بہت مخالف تھے۔) مولوی بشیر صاحب ہمیشہ دوسروں کو براہین احمدیہ پڑھنے کی تلقین کرتے اور کہا کرتے تھے کہ یہ شخص مجدد ہے جس نے یہ کتاب لکھی ہے۔کہتے ہیں کہ آخر میں نے ان سے کہا ( مولوی محمد احسن صاحب نے مولوی بشیر صاحب کو کہا ) کہ آؤ مباحثہ کر لیتے ہیں کہ آیا یہ مجدد ہیں کہ نہیں۔لیکن مباحثے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ تو چونکہ مؤید ہیں