خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 714
خطبات مسرور جلد 13 714 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء شانِ نزول سے اطلاع دے دی اور اخبار الحکم میں چھپوا دیا اور سب کو کہہ دیا کہ اگر چہ مقدمہ اب خطرناک اور صورت نومیدی کی ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کر دے گا جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحی الہی کا خلاصہ مضمون یہی تھا۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 279-280) یہ عربی میں وحی ہوئی۔لمبی ہے۔میں اس کا ترجمہ پڑھتا ہوں۔یہ ترجمہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی کیا ہوا ہے۔ترجمہ یہ ہے کہ: چکی پھرے گی اور قضا و قدر نازل ہوگی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے بباعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آ جاتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو ر ڈ کر سکے۔کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو مجھے تعجب میں ڈالے گی۔یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہوگی مگر اس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے۔تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔تو کہ ہر ایک امر میرے خدا کے اختیار میں ہے پھر اس مخالف کو اس کی گمراہی اور ناز اور تکبر میں چھوڑ دے۔وہ قادر تیرے ساتھ ہے۔اس کو پوشیدہ باتوں کا علم ہے بلکہ جو نہایت پوشیدہ باتیں ہیں جو انسان کے فہم سے بھی برتر ہیں وہ بھی اس کو معلوم ہیں۔وہی خدا حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔انسان کو نہیں چاہئے کہ کسی دوسرے پر توکل کرے کہ گویا وہ اس کا معبود ہے۔ایک خدا ہی ہے جو یہ صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔وہی ہے جس کو ہر ایک چیز کا علم ہے اور جو ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو نیکی کے تمام بار یک لوازم کو ادا کرتے ہیں سطحی طور پر نیکی نہیں کرتے اور نہ ناقص طور پر بلکہ اس کی عمیق در عمیق شاخوں کو بجالاتے ہیں اور کمال خوبی سے اس کا انجام دیتے ہیں سو انہیں کی خدا مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی پسندیدہ راہوں کے خادم ہوتے ہیں اور ان پر چلتے ہیں اور چلاتے ہیں۔۔۔ہم نے احمد کو ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ) یعنی اس عاجز کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔پس قوم اس