خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 713
خطبات مسرور جلد 13 713 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ہم چھوٹے بچے ہوتے تھے کہ ہم بے احتیاطی سے اس کمرے میں چلے گئے جس میں حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے اپنے اوپر چادر ڈالی ہوئی تھی اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم آپ کو دبا رہے تھے ان کو محسوس ہوتا تھا کہ وحی ہو رہی ہے ( بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو لکھا ہوا ہے کہ آپ ان سے خود لکھواتے بھی رہے تھے۔انہوں نے یعنی فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ ہم باہر آ گئے۔بعد میں پتالگا کہ بڑی لمبی ہی تھی جو نازل ہوئی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 673) یہ الہام جس کا حضرت مصلح موعود ذکر فرمارہے ہیں یہ اس واقعہ اور مقدمے کے بارے میں ہے جب مرزا امام الدین صاحب وغیرہ نے دیوار کھینچ کر راستے بند کر دیئے تھے۔عدالت میں جو کاغذات پیش ہوئے ان کی رُو سے فیصلہ مخالفین کے حق میں ہوتا نظر آتا تھا بلکہ انہوں نے مشہور کر دیا تھا کہ جلد مقدمہ خارج ہو جائے گا۔لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی تھی اسی طرح ہوا اور آخر وقت میں ایک ایسا ثبوت کا غذات میں مل گیا جس سے اس زمین پر مرزا امام دین صاحب کے ساتھ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد بھی قابض حصہ دار تھے۔چنانچہ عدالت نے آپ علیہ السلام کے حق میں فیصلہ دیا اور دیوار گرانے کا حکم دیا۔یہ وحی بھی بڑی شان اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے میں اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔تذکرہ میں اور حقیقۃ الوحی میں اس کا ذکر ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ: ”مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سید ناصر شاہ صاحب اوورسیئر متعین بارہ مولہ کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے۔آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہوکر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا۔اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا یہاں تک که گل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کار اس مقدمہ میں فتح ہوگی۔چنانچہ میں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الہی سنادی اور اس کے معنی اور