خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 395

خطبات مسرور جلد 13 مقابلہ میں بیج سمجھا جائے۔“ 395 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 331) جہاں تک علمی اور اعتقادی سوچ کا تعلق ہے ہم سب جانتے ہیں کہ خدا ہی ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔خدا ہی ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور زندہ خدا ہے۔دعاؤں کو سنتا ہے اور اس سے دل لگانا چاہئے۔لیکن اس کے باوجود ہم میں سے اکثر لوگ جو ہیں وہ خدا تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔وہ تعلق جو دوسرے ہر تعلق کو ہماری نظر میں بیج بنا دے۔رمضان میں ایک ماحول کے زیر اثر اس طرف قدم بڑھنے شروع ہوتے ہیں اور پھر رمضان کے بعد ا کثر کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ ہوتے ہوتے یہ قدم پھر بالکل رک جاتے ہیں۔پس اپنے عمل سے ہمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز بیچی ہے اور اس بات کو سمجھنے کے لئے دلوں کا تقویٰ پیدا کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تا کہ تمہارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ پیدا ہو۔عبادت کا مقصد صرف خدا کو پہچانا نہیں بلکہ تقویٰ پیدا کر کے اپنی روحانی بلندیوں کو حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک حاصل کرنا ہے۔اور جب صفات کا ادراک پیدا ہو بھی ہر چیز اس کے مقابل پر بیج بن سکتی ہے یا ہو سکتی ہے۔اب مثلاً اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ اپنے رب کی عبادت کرو۔رب اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو پرورش کرتی ہے جو پیدا کرتی ہے۔اور پھر اس کو آہستہ آہستہ بڑھاتی ہے۔اسے ترقی دیتی ہے۔پس یہاں جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو تو فرمایا کہ تمہاری ہر قسم کی مستقبل کی ترقیات تمہارے رب کے ساتھ منسلک ہیں۔اسی کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور جب تم خاص ہو کر صرف اپنے رب کی عبادت کر رہے ہو گے تو جہاں صفت ربوبیت کے عمومی فیض سے دنیاوی اور مادی پرورش ہورہی ہوگی وہاں تمہاری روحانی صلاحیتوں کی ترقی اور پرورش بھی ہورہی ہوگی۔پس اس میں یہ بھی ہمیں نصیحت ہے کہ اگر ہماری روحانی حالت میں ترقی نہیں ہے یا نہیں ہو رہی تو ہم اپنی عبادتوں کا حق ادا نہیں کر رہے اور نتیجہ اپنے رب کی روحانی پرورش کے فیض سے فیضیاب نہیں ہو رہے۔جب ہم اپنے رب کی عبادت کا حق ادا کر کے اس کی اس صفت سے روحانی لحاظ سے فیض پائیں گے تو تقویٰ میں بڑھیں گے اور جب تقوی میں بڑھیں گے تو پھر ہماری عبادتیں صرف رمضان تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ سارے سال اور ساری عمر پر محیط ہوں گی۔پس اس سوچ کے ساتھ ہمیں