خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد 13 18 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء پر گئے اور وہاں سے ان کی والدہ لے کے آئیں اور اس وقت ڈاکٹر بھی کوئی نہیں تھا۔ان کے دوست غیر احمدی ڈاکٹر نے ہی چھپ کے ان کو اس وقت ابتدائی طبی امداد دی۔لکھتے ہیں کہ خاکسار نے جو بات شدت سے محسوس کی وہ یہ تھی کہ لقمان احمد صاحب کا پہاڑ جیسا عزم و استقلال تھا۔تمام تر ظلم و بربریت پر ذرہ بھر بھی پریشان نہ تھے اور نہ ان کے قدم ڈگمگائے بلکہ بہت ہی حوصلہ اور غیر معمولی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحابہ کا سانمونہ پیش کیا۔را نا رؤوف صاحب سعودی عرب سے لکھتے ہیں کہ جماعت سے با قاعدہ اور مستقل رابطہ رکھا لیکن کفیل کی وجہ سے ہمیشہ پریشان رہے۔کفیل کو ان کے رشتہ داروں اور کام کرنے والوں نے ان کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ کافر ہے مگر ان کے کفیل نے کہا کہ یہلڑ کا ہمیشہ فارغ وقت میں قرآن پڑھتا رہتا ہے اور نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے۔یہ کیسا کا فر ہے جبکہ تم لوگ نہ نمازیں پڑھتے ہو اور نہ قرآن پڑھتے ہو۔خصوصی طور پر روزگار کی مشکلات اور احمدی ہونے کی وجہ سے رشتے داروں کی طرف سے مخالفت کا سامنا رہا۔سعودی عرب میں مقیم ان کے گاؤں کے ایک احمدی دوست امتیاز صاحب نے ایک واقعہ بتایا کہ جب یہ نئے نئے احمدی ہوئے تو ان کے ننھیال میں کسی کی وفات ہو گئی۔اس موقع پر ان کے ماموؤں نے غیر احمدی مولویوں کو جمع کیا اور لقمان احمد کو وہاں لے گئے۔لقمان صاحب اپنی جیب میں احمدیہ پاکٹ بک رکھتے تھے۔غیر احمدی مولوی ان سے طرح طرح کے سوال اور بحث کرتے رہے اور یہ ان کو دلیل سے جواب دیتے رہے۔بعد میں مولویوں نے شور مچانا شروع کر دیا تو ان کے غیر احمدی بزرگ نے ان مولویوں سے کہا کہ ایک لڑکے نے تم سب کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ انتہائی ادب اور دلیل کے ساتھ بات کر رہا ہے۔اس لئے تم لوگ بھی شور نہ مچاؤ بلکہ ایک ایک کر کے اس کی بات کا جواب دو۔لیکن کوئی جواب ہو تو دیں۔جلسه سالانہ سعودی عرب میں پہلی دفعہ شامل ہوئے تو کہتے ہیں خواب میں یہ نظارہ میں نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔دوسرا جنازہ غائب ہوگا مکرمہ شہزادے ستانوسکا (Scherher Zada Destanouska) صاحبہ۔یہ مقدونیہ کی رہنے والی ہیں۔یہ 19 نومبر 2014ء کو 49 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - 1996ء میں اپنے میاں کے احمدیت قبول کرنے کے چند ماہ بعد ان کو بیعت کرنے کی سعادت ملی تھی۔مارچ اپریل 1995ء میں شریف در وسکی صاحب اور شاہد احمد صاحب تبلیغی سفر