خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 233
خطبات مسرور جلد 13 233 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اپریل 2015ء اصلاح کا باعث بن گیا اور یہ یونہی نہیں ہو گیا بلکہ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی گزشتہ نیکی پسند آئی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ان کی عبادت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کیونکہ خود اصلاح کرنا چاہتا تھا اس لئے لوگوں کے کہنے پر ان کو احساس پیدا ہو گیا اور اگر دوسرے لوگوں کے دلوں میں پہلے یہی ڈالے رکھا کہ یہ منافق ہے۔تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ ان کی تعریف کریں اور اس وجہ سے غلط طور پر ان میں خود پسندی کی عادت پیدا ہو جائے اور وہ مزید گناہوں میں ڈوبتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ کسی پرانی نیکی کی وجہ سے اصلاح چاہتا تھا تو ان کی اصلاح کے سامان پیدا کر دیئے اور فلاح پانے والوں میں وہ شامل ہو گئے۔پس کسی پہلے وقت کی کی گئی بعض نیکیاں بھی باوجود بعد کی غلطیوں اور گناہوں کے سرزد ہونے کے انسان کو بد انجام سے بچانے کا موجب بن جاتی ہیں اور انسان فلاح پانے والوں میں شمار ہونے والا بن سکتا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کی اصلاح کرنا۔اور چاہے تو اس طرح بھی کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں ان مومنوں کو یقینی فلاح کی ضمانت دی ہے جو اس کی رحیمیت سے فیض پانے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کی پہلی شرط نمازوں اور عبادتوں میں خشوع ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی خاطر خالص ہو کر خشوع کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بیان فرماتے ہوئے مومن کی اس حالت کو انسان کی پیدائش کے مختلف ادوار سے تشبیہ دیتے ہوئے جو بیان فرمایا ہے اس کے صرف پہلے حصے یعنی الَّذِینَ هُمُ في صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ کو میں پیش کرتا ہوں جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ کوئی نیکی اس وقت تک نیکی نہیں رہتی ، نہ عبادتیں اس وقت تک مستقل بنیادوں پر عبادتیں رہتی ہیں جب تک خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ساتھ انسان چمٹا رہنے کی کوشش نہ کرے یا اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے اور اپنی عبادتوں کو صرف ایک ایسی کوشش سمجھے جو اسے اللہ تعالیٰ سے چمٹائے رکھنے کا اس کے فضل سے ہی ذریعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رفت اور سوز وگداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الہی میں مومن کو میسر آتی ہے۔یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وار کر کے خدائے عزوجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي