خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد 13 213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء عزیزہ ہیں وہ کہتی ہیں (جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا) کراچی کے حالات کے پیش نظر ان سے ہجرت کرنے کے لئے کہا جاتا لیکن انہوں نے ہمیشہ ہر قسم کے حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان رہنا ہی پسند کیا۔اپنی والدہ کی ہر خواہش اور ضرورت کا خیال رکھنے والے تھے۔مشہود حسن خالد صاحب مربی ہیں کہتے ہیں کہ ایک دن خاکسار شہید مرحوم کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ شہید مرحوم نے کہا کہ وہ کون خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جو شہید ہوتے ہیں۔شاید ان کی یہ تمنا ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ مقام دیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم انجینئر فاروق احمد خان صاحب نائب امیر جماعت ضلع پشاور کا ہے۔فاروق احمد خان صاحب مکرم محمود احمد خان صاحب کے بیٹے تھے۔یہ شوریٰ کے بعد ربوہ سے پشاور جا رہے تھے۔گاڑی کا ٹائر برسٹ (burst) ہو گیا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا اور چکوال کے قریب گاڑی سے باہر سڑک پر آ گرے جس کی وجہ سے زیادہ چوٹیں آئیں۔ہائی وے پولیس نے ان کو فوری طور پر چکوال ہسپتال پہنچا یا لیکن جانبر نہ ہو سکے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔فاروق صاحب کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم احمد گل صاحب کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی لیکن خلافت ثانیہ میں پھر یہ غیر مبائعین میں چلے گئے۔بعد میں فاروق خان صاحب نے خود 1989ء(Eighty nine) میں بیعت کی اور جماعت احمد یہ مبائعین میں شامل ہوئے۔پھر اس کے بعد ان کے دو بھائیوں نے بھی بیعت کر لی۔1954ء میں یہ پیدا ہوئے تھے۔مائننگ انجینئر نگ کی تعلیم مکمل کی۔پھر حکومت کے مائننگ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے رہے۔1985ء میں ایک احمدی خاندان میں ان کی شادی ہوئی اور بڑے ملنسار، نیک سیرت، شریف النفس تھے۔جماعت احمدیہ پشاور کے سیکرٹری اصلاح وارشاد کی حیثیت سے بھی انہوں نے کام کیا۔مرحوم خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کے پسماندگان کو بھی اللہ تعالیٰ صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کی اہلیہ دو بیٹے بھمر 25 سال اور 17 سال اور ایک بیٹی سوگوار ہیں۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 17 اپریل 2015 تا23 اپریل 2015 ، جلد 22 شماره 16 صفحہ 05 09)