خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 70
خطبات مسرور جلد 13 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء بھی مقرر ہیں۔اسلامی تعلیم فطرت انسانی کے مطابق ہے جب ایسی لچک ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میرے احکامات پر دیانتداری سے عمل کرو۔پس یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے جو انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔کسی کو اس اعتراض کی گنجائش نہیں رہنے دی کہ اے اللہ ! تو نے میری فطرت تو ایسی بنائی ہے، میری حالت تو ایسی بنائی ہے اور احکامات اس سے مطابقت نہ رکھنے والے دیئے ہیں۔حکم تو تو مجھے یہ دے رہا ہے کہ اعلیٰ ترین معیار تیرے احکامات پر عمل کر کے قائم کروں اور میری جسمانی حالت یہ ہے کہ میں اس پر عمل اس معیار کے مطابق کر ہی نہیں سکتا یا میری ذہنی حالت نہیں یا میری اور کمزوریاں ہیں جو ان معیاروں کو حاصل کرنے میں روک ہیں، میں کس طرح اس پر عمل کر سکتا ہوں۔لیکن اللہ تعالی نے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کهہ کر تمام عذر ختم کر دیئے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشک اپنے احکامات ، اپنی تعلیم پر عمل کا مکلف ٹھہرایا ہے۔اس کو کہا ہے کہ تم ضرور کرو مگر اس کا چھوٹے سے چھوٹا معیار رکھ کر اس پر عمل نہ کر کے مؤاخذہ سے بچنے والوں کا عذر نہیں رہنے دیا۔فرما دیا کہ یہ معیار تمہاری حالت کے مطابق ہیں ان پر تو بہر حال چلنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے ماننے پر مجبور نہیں ہوسکتا۔قومی کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے۔اور نہ شرائع و احکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے۔( پہیلیاں بوجھوانی شروع کر دے۔مشکل باتیں بیان کر کے انسان پر یہ فخر ظاہر کرے۔فرمایا :” فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے برتر اور پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو اعضاء دیئے ہوئے ہیں، جو طاقتیں دی ہوئی ہیں اس کے قومی کی برداشت اور طاقت کے مطابق اپنے احکامات پر عمل کرنے کی انسان سے توقع کی ہے۔اللہ تعالیٰ کوئی ہماری طرح نہیں ہے کہ اپنا رعب قائم کرنے کے لئے حکم دے دیئے۔ان افسروں کی طرح جو اپنے ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 61-62)