خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد 13 69 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرا سروراحمد خلیفہ مسیح الامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء بمطابق 30 صلح 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 287) یعنی اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتا۔پس اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ وہ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جو انسانی طاقت سے باہر ہو، اس کی استعدادوں سے باہر ہو، اس کی قابلیت سے باہر ہو۔پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے احکام آتے ہیں جن پر عمل انسانی طاقت سے باہر نہیں تو پھر ان پر عمل کی ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے۔ایک حقیقی مومن یہ عذر نہیں کرسکتا کہ فلاں حکم میری طاقت سے باہر ہے۔اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی اس بات پر بھی ایمان لازمی ہے کہ اس کے تمام احکام ہماری استعدادوں کے مطابق ہیں اور ہمیں ان پر اپنی تمام تر استعدادوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ حکم ہے تم اس پر عمل کر کے اس کے اعلیٰ ترین معیاروں کو ضرور حاصل کرنا ورنہ اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔بلکہ یہ فرمایا کہ ہر حکم پر عمل تمہاری استعدادوں کے مطابق ضروری ہے۔اور جب ہم انسانی فطرت کا ، انسان کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر انسان کی حالت مختلف ہے۔اس کی دماغی حالت، اس کی جسمانی ساخت، اس کا علم ، ذہانت وغیرہ مختلف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں، اس کی حالت اور اس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے احکامات میں ایسی لچک رکھ دی ہے جس کے کم سے کم معیار بھی ہیں اور زیادہ سے زیادہ معیار