خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد 13 66 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء تھی اس لئے میں اور تو کچھ نہ سمجھتا لیکن جب حاکم تقریر کے متعلق NO-NO ( نو۔نو ) کہتا تو اس لفظ کو سمجھتا۔آخر تقریر ختم ہوئی تو حاکم نے کہہ دیا ” بری“۔اور کہا کہ جب اس نے اس طرح سچ سچ کہہ دیا تو میں بری ہی کرتا ہوں۔“ (اصلاح نفس۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 434-435) تو یہ واقعہ ہم میں سے بہت سوں نے بہت دفعہ سنا ہے، پڑھا ہے۔میں بھی کئی جگہ بیان کر چکا ہوں لیکن ہم صرف سن کر لطف اٹھا لیتے ہیں۔یہ سچائی کے معیار کا ایک چھوٹا سانمونہ ہے جو آپ نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔لیکن جو لوگ اپنے مفاد کے لئے سچائی کے معیار سے نیچے گرتے ہیں انہیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ان ملکوں میں حکومت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، اسائلم کے لئے، انشورنس کمپنیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے غلط طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ایسے احمدیوں کو جو اس قسم کی حرکت کرتے ہیں سوچنا چاہئے کہ غلط طریق سے جو یہ دنیاوی فائدے اٹھانا ہے، یہ ایک احمدی کو زیب نہیں دیتا۔ٹونے ٹوٹکے کرنا جائز ہے کہ نہیں۔بعض دفعہ لوگ یہ بھی بہت زیادہ کرتے ہیں۔آپ نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوھریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں تفقہ کا مادہ دوسرے صحابہ سے کم تھا۔مولویوں نے اس پر شور مچایا۔مگر جو صحیح بات ہو وہ صحیح ہی ہوتی ہے۔آجکل جس قدر عیسائیوں کے مفید مطلب احادیث ملتی ہیں ( یعنی جو عیسائیوں کو سپورٹ کر رہی ہیں) وہ سب حضرت ابوھریرہ سے ہی مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاق و سباق کو نہ دیکھتے اور گفتگو کے بعض ٹکڑے بغیر پوری طرح سمجھے آگے بیان کر دیتے مگر باقی صحابہ سیاق و سباق کو سمجھ کر روایت کرتے۔اسی طرح اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایتیں چھپنی شروع ہوئی ہیں جن میں سے کئی ایسے لوگوں کی طرف سے بیان کی جاتی ہیں جنہیں تفقہ حاصل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے ایسی روایتیں چھپ جاتی ہیں جن پر لوگ ہمارے سامنے اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ یہ روایت چھپ گئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے جب آتھم کی میعاد میں سے صرف ایک دن باقی رہ گیا تو بعض لوگوں سے کہا کہ وہ اتنے چنوں پر اتنی بارفلاں سورۃ کا وظیفہ پڑھ کر آپ کے پاس لائیں۔جب وہ وظیفہ پڑھ کر چنے آپ کے پاس (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس) لائے تو آپ انہیں قادیان سے باہر لے گئے اور ایک غیر آباد کنوئیں میں پھینک کر جلدی سے منہ پھیر کر واپس لوٹ آئے۔“ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میرے سامنے جب اس کے متعلق اعتراض پیش ہوا تو میں نے روایت درج