خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد 13 67 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء کرنے والوں سے پوچھا کہ یہ روایت آپ نے کیوں درج کر دی۔یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صریح عمل کے خلاف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی نعوذ باللہ ٹو نے (ٹوٹکے وغیرہ کیا کرتے تھے۔اس پر جب تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس خواب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اسے ظاہری شکل میں ہی پورا کر دو۔اب خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک کام کرنا بالکل اور بات ہے اور ارادہ ایسا فعل کرنا اور بات ہے۔اور ظاہر میں خواب کو بعض دفعہ اس لئے پورا کر دیا جاتا ہے کہ تا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کا مضر پہلو اپنے حقیقی معنوں میں ظاہر نہ ہو۔چنانچہ معبرین (جو خوابوں کی تعبیر کرتے ہیں) نے لکھا ہے کہ اگر منذ رخواب کو ظاہری طور پورا کر دیا جائے تو وہ وقوع میں نہیں آتی۔اور خدا تعالیٰ اس کے ظاہر میں پورا ہو جانے کو ہی کافی سمجھ لیتا ہے۔اس کی مثال بھی ہمیں احادیث سے نظر آتی ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں کسری کے سونے کے کنگن ہیں۔اس رویا میں اگر ایک طرف اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ ایران فتح ہوگا۔(عموماً ہم یہی مراد لیتے ہیں کہ ایران فتح ہوگا ) تو دوسری طرف یہ بھی اشارہ تھا کہ ایران کی فتح کے بعد ایرانیوں کی طرف سے بعض مصائب و مشکلات کا آنا بھی مقدر ہے کیونکہ خواب میں اگر سونا دیکھا جائے تو اس کے معنی غم اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رویا کے اس مفہوم کو سمجھا اور سراقہ کو بلا کر کہا کہ پہن کڑے ورنہ میں تجھے کوڑے ماروں گا۔(سونے کے کڑے پہنا مردوں کو منع ہے۔یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پوری کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے بھی کیا کہ اگر کوئی مضر پہلو اس میں ہے تو وہ بھی مل جائے۔اس لئے حضرت عمر نے کڑے پہنوائے۔چنانچہ اسے سونے کے کڑے پہنائے گئے اور اس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رؤیا کے غم اور فکر کے پہلوکوڈ ور کرنا چاہا۔“ خطبات محمود جلد 16 صفحہ 41-42) تو بعض باتیں جو سیاق و سباق کے بغیر کی جائیں مسائل پیدا کرتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خطبہ بیان فرمایا۔یہ 1931ء کی بات ہے۔اور اس میں آپ نے جماعت کے افراد کو یہ تلقین کی کہ جھگڑوں اور فسادوں سے بچو کہ جماعت اب بلوغت کو پہنچ چکی ہے اور ہمیں اپنے آپ کو ، اپنے ایمان کو ، اپنے دینی علم کو اس کے مطابق صحیح کرنا چاہئے۔اپنے عمل کو اس کے مطابق کرنا چاہئے جو علم ہے۔دین ہمیں جس کی تلقین کرتا ہے۔اور یہ بیان کرنے کے بعد خطبے میں ایک شخص