خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد 13 65 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء کیونکہ ان کا مقابلہ کرنے والے علماء ہی ہوتے ہیں۔( نبیوں کا مقابلہ کرنے والے ظاہری علماء ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی انہی لوگوں نے مقابلہ کیا جو اپنے آپ کو ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑا عالم سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نہایت حقارت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو منشی غلام احمد لکھا کرتے تھے گویا آپ نعوذباللہ صرف منشی ہیں کہ دو چار سطریں لکھ لیتے ہیں، عالم نہیں ہیں اور وہ اس بات پر بہت خوش ہوتے کہ میں نے انہیں منشی“ لکھا ہے۔(پھر آپ نے بیان فرمایا کہ) میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کہ معلوم ہوئی تھی اور آج بھی بری محسوس ہوتی ہے۔مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے کسی مجلس میں بیان کیا کہ مولوی محمد حسین (صاحب) بٹالوی نے میری نسبت تو یہ لکھا ہے کہ یہ مولوی ہے مگر حضرت مسیح موعود کے متعلق انہوں نے یہ لکھا کہ وہ منشی ہیں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا دد مگر مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بری لگی تھی کہ مجلس میں کیوں بیان کی ہے اور اب بھی بری لگتی ہے۔“ (خطبات محمود جلد 18 صفحہ 389) بہر حال ایک تو الفاظ کا چناؤ کبھی اچھا کرنا چاہئے یا بعض واقعات کو اس طرح بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود کی راستبازی سچائی کے بارے میں واقعہ ہم سنتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کی زبانی بھی سن لیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ حضرت صاحب کا ہی واقعہ ہے۔آپ نے ایک پیکٹ میں خط ڈال دیا۔اس کا ڈالنا ڈاکخانے کے قواعد کی رو سے منع تھا مگر آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ڈاکخانہ والوں نے آپ پر نالش کر دی اور اس کی پیروی کے لئے ایک خاص افسر مقرر کیا کہ آپ کو سزا ہو جائے اور اس پر بڑا زور دیا اور کہا کہ ضرور سزاملنی چاہئے تا کہ دوسرے لوگ ہوشیار ہو جائیں۔حضرت صاحب کے وکیل نے آپ کو کہا کہ بات بالکل آسان ہے۔آپ کا پیکٹ گواہوں کے سامنے تو کھولا نہیں گیا۔آپ کہہ دیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا۔شرارت اور دشمنی سے کہا جاتا ہے کہ پیکٹ میں ڈالا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ تو جھوٹ ہو گا۔وکیل نے کہا کہ اس کے سوا تو آپ پیچ نہیں سکتے۔آپ نے فرمایا کہ خواہ کچھ ہو میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔چنانچہ عدالت میں جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پیکٹ میں خط ڈالا تھا تو آپ نے فرمایا ہاں میں نے ڈالا تھا مگر مجھے ڈاکخانہ کے اس قاعدہ کا علم نہ تھا۔اس پر استغاثہ کی طرف سے لمبی چوڑی تقریر کی گئی اور کہا گیا کہ سزا ضرور دینی چاہئے تا دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔حضرت صاحب فرماتے ہیں تقریر چونکہ انگریزی میں