خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 64
خطبات مسرور جلد 13 64 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو میر عباس علی لدھیانوی کے متعلق ایک وقت علم دیا گیا کہ وہ نیک ہے (جیسا کہ بتایا تھا کہ الہام بھی ہوا ) تو آپ اس کی تعریف فرمانے لگے مگر چونکہ اس وقت آپ کو اس کے انجام کا علم نہیں تھا اس لئے آپ کو پتانہ لگا کہ ایک دن وہ مرتد ہو جائے گا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا علم دے دیا۔غرض انسانی علم بہت محدود ہے۔صرف خدا تعالیٰ ہی کامل علم رکھتا ہے جو سب پر حاوی ہے اور کوئی شخص اس کے علوم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔“ ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 583) اللہ تعالیٰ نبیوں کو بھی جتنا بتاتا ہے وہ آگے بھی اتنا ہی آگے بتاتے ہیں۔انہی میر صاحب کا مزید ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے متعلق الہام ہوا تھا جو آپ سے نہایت گہری ارادت ظاہر کرتا تھا ایک دفعہ ایک الہام ہوا جس میں اس کی روحانی طاقتوں کی بہت بڑی تعریف کی گئی تھی مگر بعد میں وہ مرتد ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس کے متعلق تو الہام الہی میں تعریف آچکی تھی پھر یہ کیوں مرتد ہو گیا۔تو آپ نے فرمایا ( کہ ) بیشک الہام میں اس کی تعریف موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کا کلام بتا رہا تھا کہ وہ اعلیٰ روحانی طاقتیں رکھتا تھا لیکن جب اس نے ان طاقتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس میں کبر اور غرور پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو گیا اور وہ مرتد ہو گیا۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) تو سورۃ فاتحہ کی دعا بھی ہمیں بتاتی ہے کہ نفاق اور کفر یہ دو چیزیں انسان کے ساتھ ہر وقت لگی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مرضیں منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے بعد (خطبات محمود جلد 18 صفحہ 385 ) انسان پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں۔“ ہمیشہ اس دعا کو یا درکھنا چاہئے اس گروہ میں جن پر اللہ تعالیٰ انعام کرتا ہے، شامل ہونے کے بعد حملہ آور ہوتی ہیں۔اور اس کی دلیل یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ہے تو وہ حالت ان پر ان کے انعام کے بعد طاری ہوئی ہے۔اگر منعم علیہ اپنے اصل مقام کو نہ پہچانیں تو پھر تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں مغضوب علیہم میں شامل کر دیتا ہے اور یا پھر ضالین میں شامل کر دیتا ہے۔پس اس نکتہ کو ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ سورۃ فاتحہ کے آخر میں برائیوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی ہے اور پھر ہمیشہ اس دعا کو یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں انعام یافتہ لوگوں میں ہی شامل رکھے اور اس کے جو بد اثرات ہیں وہ کبھی پیدا نہ ہوں۔پھر ظاہری علم پر بزرگی کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی اس کے بارے میں ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ اگر ظاہری علم پر ہی فضیلت اور بزرگی کی بنیاد رکھی جائے تو نعوذباللہ دنیا کے سارے انبیاء کو جھوٹا کہنا پڑے گا