خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 63

خطبات مسرور جلد 13 63 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء سو آپ نے بڑی اچھی بات کی جو ہمیں تکلیف سے بچالیا اور ان اندھوں، بہروں، لولوں اور لنگڑوں کو اکٹھا کر دیا۔اب یہ اندھے، بہرے اور لولے لنگڑے موجود ہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان موجود ہے تو ان کو اچھا کر کے دکھا دیجئے۔آپ فرماتے تھے کہ اس جواب سے پادریوں کو ایسی حیرت ہوئی کہ بڑے پادری ان لولوں اور لنگڑوں کو کھینچ کھینچ کر الگ کرنے لگے۔تو اللہ تعالیٰ اپنے مقتر بین کو ہر موقع پر عزت بخشتا ہے اور ان کو ایسے ایسے جواب سمجھاتا ہے جن کے بعد دشمن بالکل ہکا بکا رہ جاتا ہے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 23 صفحہ 88-89) ایک صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے معتقد تھے اور بعد میں پھر مرتد ہو گئے۔بگڑ گئے۔ان کے بارے میں حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ لدھیانہ میں ایک شخص میر عباس علی ( صاحب ) تھے وہ حضرت صاحب سے بہت خلوص رکھتے تھے حتی کہ ان کی موجودہ حالت کے متعلق حضرت صاحب کو الہام بھی ہوا تھا۔لدھیانہ میں جب حضرت مسیح موعود اور ( مولوی ) محمد حسین بٹالوی ) کا مباحثہ ہوا تو میر عباس علی حضرت صاحب کا کوئی پیغام لے کر گئے۔ان کے مولوی محمد حسین وغیرہ مولویوں نے بڑے احترام اور عزت سے ہاتھ چومے ( اور ) کہا آپ آلِ رسول ہیں۔آپ کی تو ہم بھی بیعت کر لیں لیکن یہ مغل کہاں سے آگیا۔اگر کوئی مامور آتا تو سادات میں سے آنا چاہئے تھا۔پھر کچھ تصوف وصوفیاء کا ذکر شروع کر دیا۔میر صاحب کو ( چونکہ ) صوفیاء سے بہت اعتقاد تھا۔مولویوں نے ( مختلف قسم کے واقعات بیان کئے ) کچھ ادھر ادھر کے قصے بیان کر کے کہا کہ صوفیا ء تو اس قسم کے عجوبے دکھایا کرتے تھے۔اگر مرزا صاحب میں بھی کچھ ہے تو کوئی عجوبہ دکھلائیں۔ہم آج ہی ان کو مان لیں گے۔مثلاً وہ کوئی سانپ پکڑ کر دکھا ئیں یا اور کوئی اسی قسم کی بات کریں۔میر عباس علی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور جب حضرت صاحب کے پاس آئے تو کہا کہ حضور اگر کوئی کرامت دکھا ئیں تو سب مولوی مان لیں گے۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جب کرامت کا لفظ ان ( میر صاحب) کی زبان سے نکلا تو اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ بس میر صاحب کو مولویوں نے پھندے میں پھنسا لیا ہے۔اس پر حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود ) نے ان کو بہت سمجھایا مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔(الفضل 5 نومبر 1918 ، صفحہ 9 جلد 6 نمبر (34) اور پھر نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا ایمان ضائع ہوا اور وہ اعتقاد و اخلاص جو تھا وہ سب جاتا رہا۔پھر میر عباس علی صاحب کے اسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ