خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 771 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 771

خطبات مسرور جلد 13 771 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء ہے۔مکہ اور مدینہ وہ دو مقامات ہیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تعلق ہے۔آپ اسلام کے بانی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا اور استاد ہیں۔اس لحاظ سے ان دونوں مقامات کو قادیان پر فضیلت حاصل ہے لیکن مکہ اور مدینہ کے بعد جس مقام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے اور جو اس وقت تبلیغ دین کا واحد مرکز ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل مکہ اور مدینہ جو کسی وقت با برکت مقام ہونے کے علاوہ تبلیغی مرکز بھی تھے آج وہاں کے باشندے اس فرض کو بھلائے ہوئے ہیں لیکن یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی۔( انشاء اللہ ) مجھے یقین ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان علاقوں میں ( یعنی عرب ملکوں میں ) احمدیت کو قائم کرے گا تو پھر یہ مقدس مقامات ( مکہ اور مدینہ بھی ) اپنی اصل شان و شوکت کی طرف لوٹائے جائیں گے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 615 تا 618 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 دسمبر 1937ء) ایک نصیحت ہے جو جلسہ پر شامل ہونے والوں کے لئے بڑی قابل غور ہے۔قادیان میں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں اور باقی جگہوں پر بھی سن رہے ہیں۔آپ (مصلح موعودؓ ) فرمارہے ہیں خدا تعالیٰ کے اس شکر کے بعد میں ان تمام دوستوں کو جو یہاں جمع ہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہر اس چیز کے ساتھ جو خوشی کا موجب ہوتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے اور جہاں پھول پائے جاتے ہیں وہاں خار بھی ہوتے ہیں۔( کانٹے بھی ہوتے ہیں۔) اس طرح ترقی کے ساتھ حسد اور بغض اور اقبال کے ساتھ زوال لگا ہوا ہے۔غرض ہر چیز جو اچھی اور اعلی درجہ کی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے راستے میں کچھ مخالف طاقتیں بھی ہوا کرتی ہیں۔(جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔) اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اس بات کا مستحق ہی نہیں کہ اسے کامیابی حاصل ہو جب تک وہ مصائب اور تکالیف کو برداشت نہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کو بھی کچھ نہ کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔کبھی تو ان پر ایسے ایسے ابتلاء آتے ہیں کہ کمزور اور کچے ایمانوں والے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی چھوٹی تکالیف پیش آتی ہیں مگر بعض کمزور ایمان والے ان سے بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے ( پہلے بھی ایک دفعہ میں اس بات کا ذکر کر چکا ہوں۔) قادیان میں ایک دفعہ پشاور سے ایک مہمان آیا۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تھے اور مہمان آپ سے ملتے تھے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ نبیوں سے ان کے متبعین کو