خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 767 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 767

خطبات مسرور جلد 13 767 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015 ء اور پھر یہ دیکھیں کہ برصغیر ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں آج دنیا کے دوسو سے اوپر ممالک میں جماعت بڑھ رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے۔حاسدوں کے حسد کے باوجود بھی اسی طرح بڑھتی چلی جا رہی ہے۔یہ دشمنیاں پہلے تو ہندوستان یا پاکستان میں تھیں۔انڈونیشیا کی دشمنی کا بھی ہم نے ذکر سنا تھا۔اب دو دن پہلے قرغیزستان میں بھی ہمارے ایک مقامی قرغیز احمدی کو شہید کر دیا گیا۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔انشاء اللہ آج ان کا نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔اسی طرح آج ابھی کچھ دیر پہلے بنگلہ دیش میں جمعہ ہو رہا تھا تو وہاں کے ایک شہر میں جمعہ کے وقت ہماری مسجد میں بھی ایک دھما کہ ہوا۔غالباً خودکش دھما کہ ہی لگتا ہے۔کچھ احمدی زخمی ہوئے ہیں۔بہر حال ابھی مکمل رپورٹ آئے گی۔اللہ تعالیٰ ان زخمیوں کو بھی محفوظ رکھے اور جان لیوا زخم نہ ہوں اور جلد ان سب کو صحت عطا فرمائے۔بہر حال یہ حسد اور مخالفت احمدیت کی ترقی دیکھ کر بڑھتی چلی جارہی ہے اور دنیا میں پھیلتی چلی جارہی ہے اور یہ بڑھے گی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ اس نے ہی غالب آتا ہے انشاء اللہ تعالی۔جماعت ترقی کر رہی ہے اور انشاء اللہ کرتی جائے گی۔دد لنگر اٹھا دو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جو ذو معنی ہے۔ہم اس کے کوئی خاص معنی نہیں کر سکتے اور نہ ہمیں پتا ہے کہ وہ کب اور کس طرح پورا ہوگا اور وہ الہام ہے کہ لنگر اٹھا دو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس لنگر سے اگر کشتیوں والا لنگر مراد لیا جائے ( یعنی کشتی میں جب لنگر ڈالا جاتا ہے پانی میں کھڑا کرنے کے لئے ) تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ باہر نکل جاؤ اور خدا تعالیٰ کے پیغام کو ہر جگہ پھیلاؤ۔اور اگر لنگر سے ظاہری لنگر خانہ مراد لیا جائے تو پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آنے والوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب لنگر خانے کا انتظام نہیں کیا جاسکتا۔اس لیئے لنگر اٹھا دو اور لوگوں سے کہو کہ وہ اپنی رہائش اور خوراک کا خودا نتظام کر لیں۔ان دونوں مفہوم میں سے ہم کسی مفہوم کو بھی متعین نہیں کر سکتے اور نہ وقت متعین کر سکتے ہیں کہ کب ایسا واقعہ ہوگا۔بہر حال جب تک مہمانوں کو ٹھہرانا انسانی طاقت میں ہے اس وقت تک ہمیں یہی ہدایت ہے کہ وَسِعَ مَكَانَگ کہ تم اپنے مکان بڑھاتے جاؤ اور مہمانوں کے لئے گنجائش نکالو۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 35 صفحہ 398-397)