خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 763
خطبات مسرور جلد 13 763 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء قادیان میں جلسہ میں شامل ہوئے ہیں ان کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔حضرت مصلح موعود اس بات کا ذکر فرماتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے نشان ہزاروں ہیں اور شہادتیں بے اندازہ ہیں جو اپنی خوبصورتی دکھاتی ہیں۔ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا ایک الہام ہے کہ يَأْتِيَكَ مِنْ كُلِّ فَجِ عَمِيقٍ اور يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔یعنی اور دُور دُور سے لوگ تیرے پاس آئیں گے اور دُور دُور سے تیرے پاس تحائف لائے جائیں گے اور ایسے یسے سامان کئے جائیں گے جن سے مہمان نوازی کی جائے اور اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ وہ راستے کھس جائیں گے جن راستوں سے وہ آئیں گے۔فرماتے ہیں کہ یہ نشان ایک عظیم الشان نشان ہے۔اس عظیم الشان نشان کی کس وقت خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی اس حالت کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔( جب یہ الہام ہوا اس وقت کیا حالت تھی اس کے دیکھنے والے اب بھی موجود ہیں۔) کہتے ہیں میری عمر تو چھوٹی تھی لیکن وہ نظارہ اب بھی یاد ہے جہاں اب مدرسہ ہے وہاں ڈھاب ہوتی تھی اور میلے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے ( یعنی گند اور روڑی کے ڈھیر تھے ) اور مدر سے کی جگہ لوگ دن کو نہیں جایا کرتے تھے کہ یہ آسیب زدہ جگہ ہے۔اوّل تو کوئی وہاں جاتا نہیں تھا اور اگر کوئی جاتا بھی تھا تو اکیلا کوئی نہیں جاتا تھا بلکہ دو تین مل کر جاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔جن چڑھتا تھا یا نہیں۔بہر حال یہ ویران جگہ تھی اور یہ ظاہر ہے کہ ویران جگہوں کے متعلق ہی لوگوں کا خیال ایسا ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔پھر یہ ( کہتے ہیں ) میرے تجربے سے تو باہر تھا لیکن بہت سے آدمی بیان کرتے ہیں کہ قادیان کی یہ حالت تھی کہ دو تین روپے کا آنا بھی یہاں سے نہیں ملتا تھا۔آخر یہ گاؤں تھا۔زمیندارہ طرز کی یہاں رہائش تھی۔اپنی اپنی ضرورت کے لئے لوگ خود ہی گندم پیس لیا کرتے تھے۔کہتے ہیں یہ تو ہمیں بھی یاد ہے کہ ہمیں جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کسی آدمی کو لا ہور یا امرتسر بھیج کر وہ چیز منگواتے تھے۔پھر آدمیوں کا یہ حال تھا کہ کوئی ادھر آتا نہ تھا۔برات وغیرہ پر کوئی مہمان اس گاؤں میں آ جائے تو آ جائے لیکن عام طور پر کوئی آتا جاتا نہ تھا۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ برسات کا موسم تھا۔ایک چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا تھا۔میں پھلانگ نہ سکا تو مجھے خود اٹھا کر آگے کیا گیا۔پھر کبھی شیخ حامد علی صاحب اور