خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد 13 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء ہے تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہو سکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔(اگر ہم نے بات کو غلط سمجھ لیا تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں کہ فیصلہ اسی طرح کرے جس طرح ہم نے سمجھا ہے۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوں پر یقین رکھیں۔غرض مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کرے۔خدا تعالیٰ کی بات بہر حال پوری ہو کر رہتی ہے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 30 صفحہ 109-110 ) اور جیسا کہ میں نے کہا یہ پیشگوئی پوری ہوئی تھی۔بڑی شان سے پوری ہوئی۔ہاں وقتی طور پر عبداللہ تھم کی تو بہ کی وجہ سے پیٹل گئی لیکن آخر وہ اس پکڑ میں آ گیا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ایک دو جگہ کا ذکر میں کر دیتا ہوں۔آپ نے آتھم کی پیشگوئی کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہماری جماعت کو یہ مسائل مستحضر ہونے چاہئیں۔(ہمیشہ یادرکھنے چاہئیں ) آتھم کے رجوع کے متعلق یادر ہے کہ پیشگوئی سنتے ہی اس نے اپنی زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھا اور کانپا اور زرد ہو گیا۔ایک جماعت کثیر کے سامنے (اور بڑی جماعت کے سامنے ) اس کا یہ رجوع دیکھا گیا۔پھر اس پر خوف غالب ہوا اور وہ شہر بشہر بھاگتا پھرا۔اس نے اپنی مخالفت کو چھوڑ دیا اور کبھی اسلام کے مخالف کوئی تحریر شائع نہ کی۔جب انعامی اشتہار دے کر قتسم کے لئے بلایا گیا تو وہ قسم کھانے کو نہ آیا۔اخفائے شہادت حقہ کی پاداش میں اس پیشگوئی کے موافق جو اس کے حق میں کی گئی تھی وہ ہلاک ہو گیا۔(آخر گواہی کو چھپانے کے نتیجہ میں گودیر سے ہلاک ہوالیکن ہلاک ہو گیا۔یہ باتیں اگر عیسائی منصف مزاج کے سامنے پیش کی جاویں تو اس کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔غرض اس طرح پر مسائل کو یا درکھنا ایک فرض ہے اور کتابوں کا دیکھنا ایک ضروری (امر) ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 442) اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھیں تو پھر ہی پتا لگتا ہے۔وو پھر ایک جگہ آپ نے اس طرح فرمایا کہ یہ پیشگوئی مشروط تھی۔وہ سراسیمہ رہا۔شہر بشہر پھرتا رہا۔اگر اس کو خداوند مسیح پر پورا یقین اور بھروسہ ہوتا پھر اس قدر گھبراہٹ کے کیا معنی؟ لیکن ساتھ ہی جب اس نے اخفاء حق کیا اور ایک دنیا کو گمراہ کرنا چاہا کیونکہ اخفاء حق بعض نا واقفوں کی راہ میں ٹھوکر کا پتھر ہوسکتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے صادق وعدہ کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر اس کو دنیا سے اٹھا لیا اور جس موت سے وہ ڈرتا اور بھاگتا پھرتا تھا اس نے اس کو آلیا۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آتھم