خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 61

خطبات مسرور جلد 13 61 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء کے معاملہ میں لوگوں کو کیا مشکل پیش آسکتی ہے۔اس قدر قوی قرائن موجود ہیں اور پھر انکار !!!۔قرائن قویہ سے تو عدالتیں مجرموں کو پھانسی دے دیتی ہیں۔غرض یہ آتھم کا ایک بڑا نشان تھا اور براہین احمدیہ میں اس فتنہ کی طرف صاف اور واضح لفظوں میں الہام درج ہو چکا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 109 ) پھر ایک جگہ ایک موقع پر اس کا ذکر کرتے ہوئے پیشگوئی کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہاں تو یہ لکھا ہوا ہے کہ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔یہ تو نہیں لکھا کہ بشر طیکہ مسلمان ہو جاوے۔اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نعوذ باللہ ) دجال لکھ چکا تھا اور یہی وجہ مباحثہ کی تھی۔پھر جب میں نے پیشگوئی سنائی تو اس نے اسی وقت کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ تو بہ تو بہ۔میں تو دقبال نہیں کہتا۔یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ صرف عیسائی ہونا یا بُت پرست ہونا اس امر کا موجب نہیں ہوتا کہ دنیا میں عذاب آوے۔“ (عیسائی ہونا یا بُت پرست ہونا اس امر کا موجب نہیں ہوتا کہ دنیا میں عذاب آوے۔ایسے عذابوں کے لئے تو قیامت کا دن مقرر ہے۔عذاب ہمیشہ شوخیوں پر آتا ہے۔اگر ابو جہل وغیرہ شرارتیں نہ کرتے تو عذاب نازل نہ ہوتا۔نرا باطل مذہب پر پابند ہونے پر نہ کوئی عذاب آتا ہے نہ کوئی پیشگوئی ( کی جاتی ہے)۔ہمیشہ زیادہ شوخیوں پر پیشگوئیاں ہوتی ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ انسان کیسے ہی بت پرست یا انسان پرست کیوں نہ ہومگر جب تک شرارت نہ کرے عذاب نہیں آتا۔اگر ان باتوں پر بھی عذاب دنیا ہی میں آ جائے تو پھر قیامت کو کیا ہوگا۔پھر۔آپ نے فرمایا۔” کافروں کے لئے اصل زندان ( قید خانہ ) تو قیامت ہی ہے۔“ (جہاں فیصلے ہونے ہیں وہ تو قیامت ہی ہے۔) اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دنیا میں کیوں عذاب آتا ہے اس کا مختصر جواب آپ نے دیا۔” تو جواب یہی ہے کہ شوخیوں کی وجہ سے آتا ہے۔“ 66 ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 158) دنیا میں جو عذاب آتے ہیں وہ شوخیوں کی وجہ سے آتے ہیں۔جب بحث ہو رہی تھی تو اس بحث کے دوران عیسائی مشنریوں نے ایک چال چل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے خیال میں نیچا دکھانے کی کوشش کی اور خیال کیا کہ ایک ایسا طریقہ آزمایا جائے جس سے آپ کی لوگوں کے سامنے سبکی ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کا شران پر الٹادیا اور وہ گھبراہٹ ان پر طاری ہوئی کہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ان کی ایسی گھبراہٹ دیکھنے والی تھی۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت خلیفہ اسی الاول کے