خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 760
خطبات مسرور جلد 13 760 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء کر دیا گیا ہے اور وہ ایک ہی نور جس کے بغیر دنیا میں روشنی نہیں ہو سکتی اسے بجھانے کے لئے لوگ اپنا پورا زور لگا رہے ہیں ( یعنی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جونور ہے۔) اسے وہ ظلمت اور تاریکی کے فرزند مٹا دینا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں اس ایک ارب اور پچیس تیس کروڑ آدمیوں کی دنیا میں (اُس زمانے میں جو آبادی تھی ) دواڑھائی سو بالغ آدمی جن میں سے اکثر کے لباس غریبانہ تھے جن میں سے بہت ہی کم لوگ تھے جو ہندوستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی متوسط درجے کے کہلاسکیں جمع ہوئے تھے۔اس ارادے سے اور اس نیت سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا جسے دشمن سرنگوں کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دیں گے بلکہ اسے پکڑ کر سیدھا رکھیں گے اور اپنے آپ کو فنا کر دیں گے مگر اسے نیچا نہیں ہونے دیں گے۔اس ایک ارب پچیس کروڑ آدمیوں کے سمندر کے مقابلے کے لئے دو اڑھائی سو کمزور آدمی اپنی قربانی پیش کرنے کے لئے آئے تھے۔(اس وقت 96۔1895ء میں ) جن کے چہروں پر وہی کچھ لکھا ہوا تھا جو بدری صحابہ کے چہروں پر لکھا ہوا تھا۔جیسا کہ بدر کے صحابہ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! بیشک ہم کمزور ہیں اور دشمن طاقتور مگر وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ انسان نہیں بلکہ زندہ موتیں ہیں جو اپنے وجود سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کے دین کے قیام کے لئے ایک آخری جد و جہد کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔دیکھنے والے اُن پر ہنتے تھے۔دیکھنے والے ان پر تمسخر کرتے تھے اور حیران تھے کہ یہ لوگ کیا کام کریں گے۔( کہتے ہیں کہ ) میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ایک دری تھی یا دو دریاں۔بہر حال ان کے لئے اتنی ہی جگہ تھی جتنی اس سٹیج کی جگہ ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کیوں مر اتنا جانتا ہوں کہ وہ دری تین جگہ بدلی گئی (جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے)۔حضرت یوسف کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں جب یوسف مصر کے بازار میں بکنے کے لئے آئے تو ایک بڑھیا بھی دو روئی کے گالے لے کر پہنچی۔(چھوٹے گولے لے کے ) کہ شاید میں ہی ان گالوں سے یوسف کو خرید سکوں۔دنیا دار لوگ اس واقعہ کو سنتے ہیں اور ہنستے ہیں۔روحانی لوگ اسے سنتے ہیں اور روتے ہیں کیونکہ ان کے قلوب میں فوراً یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جہاں کسی چیز کی قدر ہوتی ہے وہاں انسان دنیا کی ہنسی کی پرواہ نہیں کرتا۔مگر میں کہتا ہوں یوسف تو ایک انسان تھا اور اس وقت تک یوسف کی قابلیتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔(چھوٹی عمر تھی ) آخر اس کے بھائیوں نے نہایت ہی قلیل قیمت پر اسے فروخت کر دیا تھا۔( یہ کہانی اگر سچی بھی مان لی جائے۔)