خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 749 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 749

خطبات مسرور جلد 13 749 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء ہزاروں درود اور سلام اور رحمتیں اور برکتیں اس پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوں جس کے ذریعہ سے ہم نے وہ زندہ خدا پایا (یعنی خدا تعالیٰ کی وہ صفات جو اوپر بیان کی گئی ہیں اس زندہ خدا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پایا جس میں یہ صفات ہیں۔”جو آپ کلام کر کے اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے اور آپ فوق العادت نشان دکھلا کر اپنی قدیم اور کامل طاقتوں اور قوتوں کا ہم کو چمکنے والا چہرہ دکھاتا ہے۔سو ہم نے ایسے رسول کو پایا جس نے خدا کو ہمیں دکھلایا اور ایسے خدا کو پایا جس نے اپنی کامل طاقت سے ہر ایک چیز کو بنایا اس کی قدرت کیا ہی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے جس کے بغیر کسی چیز نے نقش وجود نہیں پکڑا اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔وہ ہمارا سچا خدا بیشمار برکتوں والا ہے اور بیشمار قدرتوں والا اور بیشمار حسن والا اور بے شمار احسان والا اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں“۔نیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 363) اور یہ خدا ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے ملا۔پھر 1903ء کی اپنی تصنیف لیکچر سیالکوٹ میں آپ فرماتے ہیں۔غرض یہ تمام بگاڑ کہ ان مذاہب میں پیدا ہو گئے جن میں سے بعض ذکر کے بھی قابل نہیں اور جو انسانی پاکیزگی کے بھی مخالف ہیں یہ تمام علامتیں ضرورت اسلام کے لئے تھیں“۔( پرانے مذہبوں میں جو بگاڑ پیدا ہوئے وہ اس لئے تھے کہ اسلام کے آنے کی ضرورت تھی ) فرمایا کہ ایک عقلمند کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اسلام سے کچھ دن پہلے تمام مذاہب بگڑ چکے تھے اور روحانیت کو کھو چکے تھے۔پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے آپ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کو پہنچ گئے اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصہ میں پائی نہیں جاتی۔یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نبوت پر ہے کہ آپ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جب کہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عض الشان مصلح کا خواستگار تھا اور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرما یا جب کہ لاکھوں انسان شرک