خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 748
خطبات مسرور جلد 13 748 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء زمانہ میں مسیح موعود کے نام سے مجھے بھیجا ہے۔دیکھو آسمان سے نشان ظاہر ہورہے ہیں اور طرح طرح کے خوارق ظہور میں آرہے ہیں اور ہر ایک حق کا طالب ہمارے پاس رہ کر نشانوں کو دیکھ سکتا ہے گو وہ عیسائی ہو یا یہودی یا آریہ۔یہ سب برکات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 154 تا 157 حاشیہ ) پھر سن 1900ء میں اپنے رسالہ اربعین نمبر ایک میں جو روحانی خزائن کی جلد 17 میں ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین پر وہ ایک ہی انسان کامل گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں اور دعائیں قبول ہونا اور دوسرے خوارق ظہور میں آنا ایک ایسا امر ہے جو اب تک اُمت کے سچے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے۔بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور وہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔“ ( اربعین نمبر 1۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 346) پھر 1902ء کی اپنی تصنیف کشتی نوح میں آپ فرماتے ہیں : نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یا درکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 14-13) پھر 1902 ء کی ہی اپنی ایک تصنیف نسیم دعوت میں آپ فرماتے ہیں: اس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قومی کے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے اور کوئی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہے اور نہ اس کے تصرف سے نہ اس کی خلق سے۔اور