خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 743 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 743

خطبات مسرور جلد 13 743 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔اور جس نبی پر یہ اترتا ہے ہر ایک کے رتبہ کے مطابق نظر آتا ہے۔فرمایا کہ ”اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق وصفاو توکل و وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل واعلیٰ و اکمل وارفع واجلی واصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا ( سب سے حصہ زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پایا ) اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقوئی و اکمل وارفع واتم ہوکر صفات الہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو“۔سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 71 حاشیہ ) پھر 1891ء میں اپنی تصنیف توضیح مرام میں وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے ( یعنی وحی الہی کی اعلیٰ درجہ کی تجلی کی جو کیفیت ہے وہ ایک ہی انسان کو ملی ہے ) جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے ( جتنی بھی انسانی طاقتیں تھیں، استعدادیں تھی وہ کمال کو پہنچی ہیں ) اور وہ در حقیقت پیدائش الہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بھی انسانی پیدائش کی ہے اس کی جو انتہا ہے اگر لکیر کھینچی جائے تو اس کا آخری سرا ہے ) جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔(جو انتہائی اونچے مقام پر پہنچا ہوا ہے۔فرمایا کہ ) حکمت الہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنی خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلی درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔جس کے معنی یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا۔یعنی کمالات تامہ کا مظہر۔سوجیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ وارفع مرتبہ وحی کا اس کو عطا ہوا اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا ملا فرمایا کہ یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) اور مسیح ( یعنی عیسی علیہ السلام ) دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے“۔توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 64) پھر 1892-93ء کی تصنیف 'آئینہ کمالات اسلام ہے جو روحانی خزائن کی جلد پانچ میں ہے۔