خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 742
خطبات مسرور جلد 13 742 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 دسمبر 2015ء آپ کے سب اقتباسات پیش کئے جاسکتے ہیں، نہ ہی آپ کی تمام کتب کے حوالے بیان کئے جاسکتے ہیں۔تا ہم اس وقت میں اُس وقت سے کہ جب آپ نے براہین احمدیہ تصنیف فرمائی اور اپنی وفات کے وقت تک یا اس سے کچھ پہلے جو آپ نے آخری کتاب تصنیف فرمائی اس کے حوالے پیش کروں گا جن میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کے متعلق بیان فرمایا۔براہین احمدیہ کے ہر چار حصے 1880ء سے لے کر 1884 ء تک آپ نے تصنیف فرمائے جو روحانی خزائن کی جلد نمبر ایک میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔اس میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : آنحضرت سال الیتیم کا اعلیٰ وارفع مقام اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پر دے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تا شیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 558-557 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) یعنی اس بات پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قرآن شریف کی عظمت پر یقین قائم ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔پھر براہین احمدیہ میں ہی آپ فرماتے ہیں : ”اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔( براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 594 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) پھر 1886ء میں اپنی تصنیف سرمہ چشم آریہ میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ : غرض وحی الہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے۔( یعنی جو دل کی صفائی ہے، انبیاء کی جو بھی اندرونی حالت ہے اس کے