خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 740 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 740

خطبات مسرور جلد 13 740 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء تبلیغ شروع کر دیتے تھے اور اسی طرح مختلف دفاتر میں بھی ان کو کام کی توفیق ملی۔مینیجر اخبار البدر بھی رہے اور اسی طرح لنگر خانے میں اور دوسری جگہوں پر بھی کام کیا۔ان کے بھی محکموں کے ساتھ افسران کے ساتھ بڑے وسیع تعلقات تھے اور ان کا بڑا عزت و احترام کرتے تھے۔باوجود پیرانہ سالی کے ہمیشہ مسجد میں آ کر نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے حتی کہ وفات والے دن بھی نماز ظہر اور عصر مسجد میں ادا کی اور مسجد مبارک کا جو پرانا حصہ تھا اس میں کھڑے ہو کے خاص طور پر نمازیں پڑھتے تھے۔صاحب رؤیا وکشوف تھے۔دعا گو شخص تھے ، بہت ملنسار تھے اور اکثر جونئے واقفین زندگی نوجوان ہیں وہ ان کی صحبت میں بیٹھ کر کافی فیض پایا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی دعاؤں اور نیکیوں کا وارث بنائے۔تیسرا جنازہ مکرمہ سیدہ قامتہ بیگم صاحبہ کا ہے۔اڑیسہ کی ہیں۔ہمارے واقف زندگی ڈاکٹر طارق احمد صاحب جو اس وقت نور ہسپتال قادیان کے انچارج ہیں ان کی والدہ تھیں۔16 راکتو برکوان کی وفات ہوئی تھی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑی قناعت پسند ، سادہ مزاج ، صابرہ اور شاکرہ، غریب پرور، خوددار، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور اچھی تربیت کا انہوں نے بہت خیال رکھا۔ان کے خاوند سرکاری ملازم تھے اور ان کی محدود تنخواہ تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے غریب اور ضرورتمند عزیزوں کی بہت خدمت کرتے تھے اور اس سلسلے میں مرحومہ قامتہ صاحبہ کا بھی ان سے بہت تعاون تھا۔کبھی انہوں نے اعتراض نہیں کیا بلکہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نیکیاں ان کی نسلوں میں بھی جاری رہیں۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 01 جنوری 2016 ء تا 07 جنوری 2016 ءجلد 23 شماره 01 صفحه 05 تا 09)