خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 736
خطبات مسرور جلد 13 736 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء کام امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانا ہے۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اسلام کی طرف سے کبھی تلوار اٹھائی گئی تو وہ بھی حفاظت کے لئے اور امن قائم کرنے کے لئے اٹھائی گئی کبھی ظلم کے لئے نہیں اٹھائی گئی۔پس یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ قرآن کریم نے کبھی بھی اور کہیں بھی یہ حکم دیا ہو کہ جو تمہاری بات نہیں مانتا اس کے خلاف تلوار اٹھاؤ اور اسے تہ تیغ کر دو۔اگر کوئی مسلمان گروہ یا مسلمان سر براہ اپنے عمل سے اس کی نفی کر رہا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں امن قائم کر رہے ہیں تو وہ حقیقی اسلام نہیں ہے۔وہ ان کے اپنے ذاتی مفادات ہیں جن کا وہ اظہار کر رہے ہیں یا بڑی طاقتوں کے مفادات ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو آلہ کار بنایا ہوا ہے۔اور پھر اسلام پر ہی الزام کہ اس کی تعلیم ایسی ہے۔ایک حقیقی مسلمان اور عبد رحمان کی تو پہچان ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الجهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا - (الفرقان: 64) اور جب جاہل لوگ ان سے لڑتے ہیں تو وہ بجائے لڑنے کے کہتے ہیں ہم تمہارے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔پس یہ قرآنی تعلیم ہے اور یہی تعلیم ہے جو ہر سطح پر امن اور سلامتی قائم کرنے اور اس کے لئے کوشش کرنے کا حکم دیتی ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ اسلام ہے اور صرف اسلام ہے جو دنیا میں امن وسلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔اور یہ قرآن کریم ہے اور صرف قرآن کریم ہے جو امن اور سلامتی پھیلانے کی اور شدت پسندی کے خاتمے کی تعلیم دیتا ہے۔پس اس تعلیم کا ادراک حاصل کرنے کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔اس تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔اس تعلیم پر عمل کریں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اپنے عملی نمونوں سے دنیا کو بتا ئیں کہ آج قرآن کریم کی حفاظت کے کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق بخشی ہے اور یہ اس کا فضل ہے۔قرآن کریم کی صحیح تفسیر اور تشریح ہی اس کی معنوی حفاظت بھی ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور ہمیں آپ علیہ السلام کو ماننے کی توفیق دے کر اس کام کے لئے ہمیں بھی چن لیا، ہمیں بھی توفیق دی۔پس یہ خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانے کا کام سرانجام دینا ہر احمدی کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے ہر احمدی لڑکے لڑکی ، مرد عورت کو کوشش کرنی چاہئے۔دنیا اس وقت آگ کے گڑھے کے جس دہانے پر کھڑی ہے کسی وقت بھی ایسے حالات ہو سکتے ہیں کہ وہ اس میں گر جائے۔ایسے وقت میں دنیا کو اس آگ میں گرنے سے بچانے کی کوشش کرنا اور امن اور سلامتی