خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 734 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 734

خطبات مسرور جلد 13 734 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء حفاظت کے کام میں حصہ دار بن سکتے ہیں اور دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ اگر دنیا میں حقیقی امن قائم کرنا ہے تو قرآن کریم کے ذریعہ ہی قائم ہو سکتا ہے۔قرآن کریم نے ایک جگہ اسلام کو قبول نہ کرنے والوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ وَقَالُوا إن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نَتَخَطَّفَ مِنْ أَرْضِنَا (القصص:58) اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس ہدایت کی جو تجھ پر اتری ہے اتباع کریں تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں۔پس اسلام کی تعلیم پر اعتراض اس لئے نہیں ہے کہ ظلم اور جبر کی تعلیم ہے بلکہ قبول نہ کرنے والے اسلام کی تعلیم پر جو اعتراض کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ہم تیری تعلیم پر عمل کریں جو امن والی تعلیم ہے جو سلامتی والی تعلیم ہے تو اردگرد کی قو میں ہمیں تباہ کر دیں۔پس اسلام کی تعلیم تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی تعلیم ہے۔امن اور سلامتی قائم کرنے کی تعلیم ہے۔امن اور محبت کا پیغام دینے کی تعلیم ہے۔اگر بعض مسلمان گروہ عمل نہیں کرتے تو ان کی بدقسمتی ہے۔قرآن بیشک اصل الفاظ میں ان کے پاس موجود ہے لیکن عمل نہیں ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کی اور قرآن کریم کے احکامات کی جو حفاظت کرنی تھی یا کرنی چاہئے وہ یہ لوگ نہیں کر رہے۔اس کی حفاظت تو مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت نے ہی کرنی ہے۔دنیا کو ہم نے اپنے علم اور عمل سے بتاتا ہے کہ دنیا کو اپنی سلامتی اور امن کا خطرہ اسلام سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو اسلام کے خلاف ہیں۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس اقتباس میں بھی فرمایا ہے جو میں نے پڑھا کہ یہ لوگ جو اسلام کو بدنام کرتے ہیں وہ جھوٹ اور بہتان سے کام لیتے ہیں۔اور ان کا یہ جھوٹ اور بہتان اصل میں دنیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔یہ لوگ اپنے مفادات کے لئے، دنیا میں اپنی جغرافیائی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کے لئے فساد برپا کئے ہوئے ہیں۔مسلمان ممالک کے فساد میں بھی بعض بڑے ممالک کا حصہ ہے۔اور اب تو مختلف مغربی میڈیا پر خود ان کے اپنے لوگ ہی کہنے لگ گئے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ شدت پسند تنظیمیں ہماری حکومتوں کی پیداوار ہیں جو ہم نے عراق کی جنگ کے بعد یا شام کے حالات کے بعد پیدا کی ہیں۔اس بات سے میں مسلمانوں اور ان لوگوں کو جو اسلام کے نام پر مسلمان کہلاتے ہوئے شدت پسندی کا اور اسلام کی غلط تعلیم کے اظہار کا مظاہرہ کر رہے ہیں بری الذمہ نہیں کرتا لیکن اس آگ کو بھڑکانے میں بڑی طاقتوں کا بہر حال حصہ ہے۔انصاف سے کام نہ لینے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ کسی بڑی طاقت کی طرف سے ایک بیان آ گیا اور دنیا نے تسلیم کر لیا بلکہ ہر تجزیہ نگار کا میڈیا کے ذریعہ ہر جگہ پہنچنا یا اپنے خیالات پہنچانا اب آسان ہو گیا ہے۔ابھی بھی ایک طرف تو شدت پسند لوگوں کو ختم کرنے کی باتیں ہوتی