خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 727
خطبات مسرور جلد 13 727 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء تا قیامت عمل کرنے والے پیدا ہونے کا خدا تعالیٰ کا وعدہ نہیں۔لیکن قرآن کریم میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر : 10 ) یعنی اس ذکر یعنی قرآن کریم کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔تو اس کی حفاظت کے پھر سامان بھی فرمائے۔قرآن کریم ایک دائمی کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کی مختلف موقعوں پر مختلف کتابوں میں تفسیر فرمائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کی قدیم سے یہ عادت ہے کہ جب ایک قوم کو کسی فعل سے منع کرتا ہے تو ضرور اس کی تقدیر میں یہ ہوتا ہے کہ بعض ان میں سے اس فعل کے ضرور مرتکب ہوں گے جیسا کہ اس نے توریت میں یہودیوں کو منع کیا تھا کہ تم توریت اور دوسری خدا کی کتابوں کی تحریف نہ کرنا۔سو آخران میں سے بعض نے تحریف کی (اس کو بدلا ) مگر قرآن کریم میں یہ نہیں کہا گیا کہ تم قرآن کریم کی تحریف نہ کرنا ( اس کو نہ بدلنا ) بلکہ یہ کہا گیا انا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) (ماخوذ از نزول اسیح - روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 419) پھر آپ فرماتے ہیں کہ (یہ آیت) ”صاف بتلا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہوگی کہ اس ذکر کو دنیا سے مٹانا چاہے گی تو اس وقت خدا آسمان سے اپنے کسی فرستادہ کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرے گا“۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 267) پس وقتا فوقتا یہ لوگ قرآنی تعلیم پر اعتراض کر کے اس تعلیم کو مٹانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی تعلیم یا مٹ گئی ہے یا صرف کتاب کی حد تک رہ گئی ہے۔یہ مختلف طریقے آجکل میسج (Message) بھیجنے کے یا ٹویٹ (Tweet) کرنے کے ہیں۔ان میں واٹس ایپ (WhatsApp) وغیرہ بھی ہے۔گزشتہ دنوں اس پر ایک چھوٹی سی فلم چل رہی تھی جس میں دولڑ کے ایک کتاب میں سے جس کے باہر قرآن لکھا ہوا تھا لوگوں کو بعض آیات یا حصے پڑھ کر سنا رہے تھے کہ یہ کیسی تعلیم ہے اور سڑک پر مختلف لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھ رہے تھے، ان کا انٹرویو لے رہے تھے، ان کو بتاتے تھے۔تو ہر ایک کو جب یہ پتا لگتا تھا کہ یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے کیونکہ باہر لکھا ہوا تھا تو ہر ایک اسلام کی تعلیم کی برائیاں کر رہا تھا کہ دیکھو یہ ثابت ہو گیا کہ اسلامی تعلیم ہی ایسی ہے جس کی وجہ سے مسلمان ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد ان لڑکوں نے اس کتاب کا کور (cover) اتار دیا اور دکھایا کہ یہ اسلام کی نہیں یہ بائبل کی تعلیم ہے کیونکہ یہ بائبل ہے جو ہم پڑھ رہے تھے۔تو کسی نے اس پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا۔اسلام کا نام آتا ہے تو فورا منفی تبصرہ