خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 726
خطبات مسرور جلد 13 726 50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسر دراحمد خلیفة المسح الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء بمطابق 11 فتح 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : گزشتہ دنوں یہاں ایک اخباروں میں کالم لکھنے والے نے لکھا اور اسی طرح ایک آسٹریلین سیاستدان نے بھی کہا کہ اسلام کی تعلیم میں جو جہاد اور بعض دوسرے احکامات ہیں انہی کی وجہ سے مسلمان شدت پسند بنتے ہیں۔اسلامی احکامات کے بارے میں گزشتہ دنوں یوکے(UK) کے بھی ایک حکومتی سیاستدان نے یہی کہا تھا کہ اسلام میں کچھ نہ کچھ تو شدت پسندی کے احکامات ہیں سختی کرنے کے احکامات ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کا شدت پسندی کی طرف رجحان ہے۔آجکل جو اسلام کے نام پر عراق اور شام میں شدت پسند گروہ نے کچھ علاقے پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کی ہے اس نے مغربی ممالک کو بھی نہ صرف دھمکیاں دی ہیں بلکہ بعض جگہ ظالمانہ حملے کر کے معصوموں کو قتل بھی کیا ہے۔اس کا میں گزشتہ خطبوں میں ذکر بھی کر چکا ہوں۔اس چیز نے جہاں عوام کو خوفزدہ کیا ہے وہاں ان لوگوں کو جو بعض ملکوں کے لیڈر ہیں لاعلمی کی وجہ سے یا اسلام مخالف خیالات کی وجہ سے اسلام کے خلاف کہنے کا موقع بھی دیا ہے۔کہنے اور لکھنے والے یہ بھی لکھتے ہیں کہتے بھی ہیں کہ ٹھیک ہے دوسرے مذاہب کی تعلیم میں بھی سختی ہے۔بعض احکامات ایسے ہیں لیکن ان کے ماننے والے یا تو اس پر اب عمل نہیں کرتے یا اس میں حالات کے مطابق تبدیلیاں کرلی ہیں اور زمانے کی ضرورت کے مطابق اس تعلیم کو کر لیا ہے۔اور اس بات پر ان کا زور ہے کہ لہذا اب قرآن کریم کے احکامات کو بھی اس زمانے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔بہر حال اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ان کے مطابق ان کی تعلیم اب خدا کی بھیجی ہوئی نہیں رہی بلکہ انسانوں کی بنائی ہوئی تعلیم رہ گئی ہے۔اور یہ ہونا تھا کیونکہ ان تعلیموں کے قائم رہنے یا ان پر