خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 722
خطبات مسرور جلد 13 722 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء ہیں اصل مقام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ہے حضرت خلیفہ اول کا خیال مجھے اس لئے آیا کرتا ہے کہ انہوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا اور انہیں مجھ سے بے حد محبت تھی اور ان کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ میں قرآن پر غور کروں اور اس کے مطالب نکالوں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دنیاوی چیزیں نہیں بلکہ یہ چیزیں ہیں جو ہمارے لئے حقیقی راحت کا سامان بہم پہنچاسکتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 24 صفحہ 168-169) یہ تو قصہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق کا۔ایسے لوگوں کا جو قادیان جاتے تھے اور ہر وقت یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہیں بیٹھے رہیں جیسا کہ فضل شاہ صاحب کا بھی قصہ سنایا اور منشی اروڑے خان صاحب کا بھی۔ایک طرف تو وہ لوگ تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کو دیکھتے تھے اور اس کوشش میں ہوتے تھے قادیان پہنچیں۔قادیان آنے کے لئے بے چین ہوتے تھے اور آپ کے لئے پھر قربانیاں بھی دیتے تھے۔لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں بیچارے جن پر قادیان کا نیک ماحول مصیبت بن جاتا تھا۔دنیاوی لذات ان پر اتنی غالب ہوتی تھیں کہ وہ نیک ماحول سے جان چھڑا کر بھاگتے تھے۔ایسے ہی ایک شخص کا واقعہ بھی حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفعہ قادیان ایک شخص آیا اور ایک دن ٹھہر کر چلا گیا۔جنہوں نے اسے قادیان بھیجا تھا انہوں نے اس خیال سے بھیجا تھا کہ یہ قادیان جائے گا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں سنے گا وہاں کے حالات دیکھے گا تو اس پر احمدیت کا کچھ اثر ہوگا۔مگر جب وہ صرف ایک دن ہی ٹھہر کر واپس چلا گیا تو ان بھیجنے والوں نے اس سے پوچھا کہ تم اتنی جلدی کیوں آگئے۔تو وہ کہنے لگا تو بہ کرو جی وہ بھی کوئی شریفوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ شاید کسی احمدی کے نمونے کا اچھا اثر نہیں ہوا جس سے اس کو ٹھوکر لگی ہوئی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہوئی ہے جو تم اتنی جلدی چلے آئے۔فرماتے ہیں کہ ان دنوں قادیان اور بٹالہ کے درمیان یکے چلا کرتے تھے۔(ٹانگے چلا کرتے تھے۔) اس نے کہا میں صبح کے وقت قادیان پہنچا۔مہمان خانے میں مجھے ٹھہرایا گیا۔میری تواضع اور آؤ بھگت کی گئی۔ہم نے کہا سندھ سے آئے ہیں راستہ میں تو کہیں حقہ پینے کا موقع نہیں ملا اب اطمینان سے بیٹھ کر حقہ پئیں گے اور آرام کریں گے۔ابھی ذرا حقہ آنے میں دیر تھی کہ ایک شخص نے کہا کہ بڑے مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ امسیح الاول ( ان کو بڑے مولوی صاحب کہا جاتا تھا ) اب حدیث کا درس دینے لگے ہیں پہلے درس سن لیں بعد میں حقہ پئیں۔