خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 721 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 721

خطبات مسرور جلد 13 721 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دینا چاہتا تھا لیکن تو فیق نہیں ملی اور اب جبکہ مجھے تو فیق ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دنیا میں نہیں اور اس پر پھر بڑی شدت سے رونا شروع کر دیا۔تو حضرت مصلح موعود اس واقعہ کا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ہوتا ہے عشق۔اگر دنیا کی یہ عمتیں کوئی نعمتیں ہیں اور اگر واقعہ میں ہمیں ان سے کوئی حقیقی آرام پہنچ سکتا ہے تو ایک مومن کا دل ان کو استعمال کرتے وقت ضرور دکھتا ہے کہ اگر یہ نعمتیں ہیں تو اس قابل تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتیں۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 24 صفحہ 167-168) حضرت عائشہ کا ایک واقعہ بھی آتا ہے کہ جب آپ گونرم آٹے کی روٹی ملی تو آنکھوں میں آنسو آگئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نہیں ملتا تھا اور آپ موٹے پسے ہوئے آٹے کی روٹی (ماخوذ از خطبات محمود جلد 24 صفحہ 165-166 ) کھایا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے عشق کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں۔یہ فرمانے کے بعد کہ اگر یہ نعمتیں کسی قابل تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملتیں اور پھر آپ کے بعد آپ کے ظل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماتیں۔فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں مجھے شکار کرنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک ہوائی بندوق (airgun) میرے پاس تھی جس سے میں شکار مار کر گھر لایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام چونکہ کھانا کم کھایا کرتے تھے اور آپ کو دماغی کام زیادہ کرنا پڑتا تھا اور میں نے خود آپ سے یا کسی اور طبیب سے سنا ہوا تھا کہ شکار کا گوشت دماغی کام کرنے والوں کے لئے مفید ہوتا ہے اس لئے میں ہمیشہ شکار آ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔مجھے یاد نہیں کہ اس زمانے میں میں نے خود کبھی شکار کا گوشت اپنے لئے پکوایا ہو۔ہمیشہ یہ شکار مار کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا کرتا تھا۔تو جب انسان کو اپنے محبوب سے محبت کامل ہوتی ہے تو پھر یا تو وہ کسی چیز کو راحت ہی نہیں سمجھتا اور یا اگر راحت سمجھتا ہے تو کہتا ہے یہ اس محبوب کا حق ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم کے بڑے بڑے معارف اپنے فضل سے کھولے ہیں مگر بیبیوں مواقع مجھ پر ایسے آئے جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نکتہ مجھ پر کھولا گیا تو میرے دل میں اس وقت بڑی تمنا اور آرزو پیدا ہوئی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں یہ نکتہ مجھ پر کھلتا تو میں ان کے سامنے پیش کرتا اور مجھے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی۔فرماتے