خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 720 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 720

خطبات مسرور جلد 13 720 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء بادشاہ سے ملے تو اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ آپ نے مجھے اس طرح دیکا یک رہا کر دیا۔اس نے کہا کہ وجہ یہ ہوئی کہ میں سور ہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے آ کر مجھے جگایا ہے۔خواب میں ہی میری آنکھ کھل گئی تو پوچھا آپ کون ہیں تو معلوم ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں نے عرض کیا کہ کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہارون الرشید یہ کیا بات ہے کہ تم آرام سے سور ہے ہو اور ہمارا بیٹا قید خانے میں ہے۔یہ سن کر مجھ پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اسی وقت رہائی کے احکام بھجوائے۔ان بزرگ نے کہا کہ اس روز مجھے بھی قید خانے میں بڑا کرب تھا۔اس سے پہلے مجھے بھی کبھی رہائی کی خواہش پیدا نہ ہوئی تھی لیکن اس دن بڑی بے چینی تھی کہ رہائی ہو جائے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 890-891) عجب تھا عشق اس دل میں۔۔حضرت مصلح موعود اس کے بعد پھر دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق کا منشی اروڑا صاحب مرحوم کا حوالہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے ان کی یہ عادت تھی کہ وہ کوشش کرتے کہ ہر جمعہ یا اتوارکو وہ قادیان پہنچ جایا کریں۔چنانچہ جب انہیں چھٹی ملتی یہاں آجایا کرتے تھے اور مہینے میں ایک دفعہ آنے کا تو پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اور پھر جب آتے تھے تو اپنے سفر کا ایک حصہ پیدل طے کرتے تھے تا کہ کچھ رقم بچ جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر سکیں۔ان کی تنخواہ اس وقت بہت تھوڑی تھی۔غالباً پندرہ بیس روپے تھی اور اس میں سے وہ نہ صرف گزارہ کرتے بلکہ سفر خرچ بھی نکالتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھی نذرانہ پیش کرتے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں میں نے ان کو ہمیشہ ایک ہی کوٹ میں دیکھا ہے، دوسرا کوٹ پہنتے ہوئے میں نے ان کو ساری عمر نہیں دیکھا۔انہوں نے تہہ بند باندھا ہوا ہوتا تھا اور معمولی سا کر نہ ہوتا تھا۔ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرتے رہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کر دیں۔رفتہ رفتہ وہ اپنی دیانت کی وجہ سے ترقی کرتے گئے اور تحصیلدار بھی ہو گئے۔پھر ان کا جو مشہور واقعہ ہے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن آئے۔مجھے باہر بلایا اور بڑی شدت سے رونا شروع کر دیا۔حضرت مصلح موعود نے کہا مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا وجہ ہے۔پھر انہوں نے تین یا چار سونے کے اشرفیاں نکال کر دیں کہ یہ میں