خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 719
خطبات مسرور جلد 13 719 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں میں نے کئی دفعہ پہلے بھی سنایا ہے کہ قاضی امیر حسین صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی تھے۔احمدی ہونے سے قبل وہ کٹر وہابی تھے اور اسی طرح سے کئی باتیں ظاہری آداب کی وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔وہابی بہت کٹر ہوتے ہیں بعض چیزوں کو وہ برداشت نہیں کر سکتے جو ظاہر کی چیزیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب حضور باہر تشریف لاتے تو دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ کے کھڑے ہو جاتے تھے۔قاضی صاحب مرحوم احمدی تو ہو گئے تھے لیکن ان کا یہ خیال تھا کہ یہ کھڑے ہونا جائز نہیں ہے بلکہ شرک ہے اور اس بارے میں ہمیشہ بحث کیا کرتے تھے کہ آج ہم میں ایسی باتیں موجود ہیں تو آئندہ کیا ہو گا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں وہ میرے استاد بھی تھے۔کہتے ہیں جب میری خلافت کا زمانہ آیا تو ایک دفعہ میں باہر آیا تو معاً کھڑے ہو گئے۔( حضرت مصلح موعودؓ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے۔تو میں نے انہیں کہا قاضی صاحب یہ تو آپ کے نزدیک شرک ہے۔اس پر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ خیال تو میرا یہی ہے مگر کیا کروں رُکا نہیں جاتا۔اس وقت بغیر خیال کے کھڑا ہو جاتا ہوں۔میں نے کہا بس یہی جواب ہے آپ کے تمام اعتراضات کا۔جہاں بناوٹ سے کوئی کھڑا ہو تو یہ بیشک شرک ہے مگر جب آدمی بیتاب ہو کر کھڑا ہو جائے تو یہ شرک نہیں ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض امور ایسے ہیں جنہیں تکلف اور بناوٹ شرک بنا دیتے ہیں۔پس اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔فرماتے تھے اپنے ایک بھائی کی وفات پر حضرت عائشہ نے بے اختیار چیخ مار دی اور منہ پر ہاتھ مارلیا۔کسی نے ان سے دریافت کیا کہ کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا بے اختیاری میں ایسا ہو گیا۔میں نے جان کر نہیں کیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں قاضی صاحب کی یہ بات مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے کہ بے اختیاری میں ہو گیا۔بہر حال ان صحابہ کا بھی اپنا رنگ تھا۔ہر ایک کا اخلاص اور محبت تھا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 889) اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے کیسے نشان دکھاتا ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ غالباً ہارون الرشید کے زمانے میں ایک بزرگ جو اہل بیت میں سے تھے اور جن کا نام موسیٰ رضا تھا اس بہانے سے قید کر دیئے گئے کہ ان کی وجہ سے فتنے کے پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ایک دفعہ آدھی رات کے وقت ایک سپاہی ان کے پاس قید خانے میں رہائی کا حکم لے کر پہنچا۔وہ بہت حیران ہوئے کہ اس طرح میری رہائی کا فوری حکم کس طرح ہو گیا۔وہ