خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 718 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 718

خطبات مسرور جلد 13 718 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء دیتا اور کہتا کہ اگر یہ قادیان نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں نہیں بچ سکوں گا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 887) تو یہ ان بزرگوں کا غیروں پر بھی اثر تھا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کو دیکھا ہوا تھا اور پھر اخلاص میں بڑھے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ سے ان کا ایک تعلق تھا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ انسان جیسا اللہ تعالیٰ سے معاملہ کرتا ہے ویسا ہی وہ اس سے کرتا ہے۔پس جس رنگ میں انسان اپنے دل کو اس کے لئے پگھلاتا ہے اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔دنیا اسے مارتی ہے، اسے گالیاں دیتی ہے، اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے مگر وہ ہر دفعہ دبائے جانے کے بعد گیند کی طرح پھر ابھرتا ہے۔ایسے مومنوں کو ہر طرح کی روکوں کے باوجود اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور یہی حقیقی جماعت ہوتی ہے جو ترقی کرتی ہے اور ایسا ایمان پیدا کرنا چاہئے۔پس اپنے دلوں کو ایسا ہی بناؤ اور ایسی محبت سلسلے کے لئے پیدا کرو پھر دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو تو مانگنا بھی نہیں پڑتا۔بعض وقت وہ ناز کے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ خود بخو دان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی میں نے یہ واقعہ بھی سنا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ تھے ایک دفعہ ان پر ایسی حالت آئی کہ وہ سخت مصیبت میں تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے۔تو انہوں نے کہا کہ اگر میرا رب مجھے نہیں دینا چاہتا تو میرا دعا کرنا گستاخی ہے۔جب اس کی مرضی نہیں تو میں کیوں مانگوں۔یہ ان کا مقام تھا۔اس صورت میں میں تو یہی کہوں گا مجھے نہ ملے۔اور اگر وہ دینا چاہتا ہے تو میرا مانگنا بے صبری ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ مطلب نہیں کہ دعا کرتے ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی کامل مومنوں پر ایسی کیفیات آتی ہیں۔کبھی کبھی ایسی کیفیات آتی ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم مانگیں گے نہیں۔دعا کرنے کا تو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے کہ مانگو لیکن بعض دفعہ ایسی کیفیت ہوتی ہے، بعض اس تعلق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ناز و نخرے کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود ہماری ضرورت کو پورا کرے گا۔مگر یہ مقام یونہی حاصل نہیں ہوتا۔یہ مت خیال کرو کہ تم یونہی بیٹھے رہو، اپنے قلوب میں محبت نہ پیدا کرو۔نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا نہ کرو۔صدقہ و خیرات اور چندوں میں غفلت کرو۔جھوٹ اور فریب سے کام لیتے رہو اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کے وارث ہو جاؤ، یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 887-888)