خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 712 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 712

خطبات مسرور جلد 13 712 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء کو کیا الہام ہوا ہے؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اور ہماری یہ حالت تھی کہ ادھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کے لئے تشریف لے گئے اور ہم نے جھٹ جا کر کاپی اٹھا کر دیکھی کہ دیکھیں کیا تازہ الہام ہوا ہے۔یا پھر خود مسجد میں پہنچ کر آپ کے دہن مبارک سے سنا، آپ کے منہ سے سنا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 1 صفحہ 313-314) پس یہ ذوق و شوق اس لئے تھا کہ اپنے ایمانوں کو مزید صیقل کریں، مضبوط کریں۔اس کی برکات حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد کریں کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ کسی صحابی کی موجودگی میں الہام ہوتا اور وہ خوش قسمت بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کوسن رہا ہوتا۔بعض دفعہ ایسی کیفیت بھی ہوتی کہ ساتھ بیٹھے ہوئے سن رہا ہوتا۔ایسے ہی ایک بزرگ کا ذکر کرتے ہوئے جن کی موجودگی میں الہام ہوا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب ایک نہایت ہی پرانے احمدی خاندان میں سے ہیں۔ان کے والد سید فضل شاہ صاحب حضرت صاحب کے نہایت ہی مقرب صحابی تھے اور عام طور پر حضرت صاحب کی خدمت کیا کرتے تھے اور اکثر قادیان میں آتے جاتے تھے۔سید ناصر شاہ صاحب اوورسیئر جو بعد میں شاید ایس ڈی او ہو گئے تھے یہ سید فضل شاہ صاحب ان کے بھائی تھے۔ان میں بھی بڑا اخلاص تھا اور وہ بھی حضرت صاحب کو بہت پیارے تھے۔اور وہ بھی اپنے اخلاص کی وجہ سے اپنے بھائی یعنی سید فضل شاہ صاحب کو کہا کرتے تھے کہ کام کچھ نہ کرو قادیان جا کر بیٹھے رہو۔حضرت صاحب سے ملاقات کیا کرو۔مجھے کچھ ڈائریاں بھیج دیا کرو۔کچھ دعاؤں کے لئے کہتے رہا کرو۔جو تمہارے اخراجات ہیں ،خرچے ہیں وہ میں بھیجا کروں گا۔چنانچہ وہ اپنے بھائی کی مدد کرتے رہتے تھے محض اس وجہ سے کہ وہ قادیان میں حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک وحی جس کے شروع میں الر حی آتا ہے اور جو خاص ایک رکوع کے برابر ہے وہ ایسی حالت میں نازل ہوئی جبکہ حضرت صاحب کو درد گردہ کی شکایت تھی اور وہ یعنی سید فضل شاہ صاحب آپ کو دبا رہے تھے۔گویا ان کو یہ خاص فضیلت حاصل تھی کہ ان کی موجودگی میں دباتے ہوئے حضرت صاحب پر وحی نازل ہوئی اور وحی بھی اس طرز کی تھی کہ کلام بعض دفعہ اونچی آواز سے آپ کی زبان پر جاری ہو جاتا تھا۔حضرت مصلح موعود کہتے