خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد 13 55 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ نے اس طرح بھی فرمایا کہ آریوں میں لیکھرام کی جو عزت تھی اس کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ ان سے ملنا اپنی عزت سمجھتے تھے۔لیکن حضرت مرزا صاحب کی غیرت دیکھئے کہ پنڈت صاحب خود ملنے کے لئے آتے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں کہ میرے آقا کو گالیاں دینا چھوڑ دے تب ملوں گا۔“ (ماخوذ از تقریر سیالکوٹ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 114) حضرت مسیح موعود کی محبت رسول میلی لیتم یہاں اس واقعہ میں جہاں غیرت رسول کا پتا چلتا ہے وہاں یہ بھی سبق ہے کہ صرف بڑے لوگوں کو اس وجہ سے سلام کر دینا کہ وہ بڑے ہیں اور ہماری عزت قائم ہوگی کافی نہیں بلکہ غریب کی عزت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور اصل چیز غیرت دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بڑا آدمی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط الفاظ میں کچھ کہتا ہے تو چاہے وہ کتنا بڑا ہو اس کو اہمیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔بہر حال اس کے مختلف زاویے ہیں۔پھر اسی طرح ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کا سلوک اپنی اولاد سے ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ قطعاً خیال نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ کبھی ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں ہم چھوٹے ہوتے تھے تو سمجھتے تھے کہ حضرت صاحب کبھی غصے ہوتے ہی نہیں۔اولاد سے محبت کا معیار اس قدر بلند تھا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ سے ہی بیان کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک دفعہ کہا کہ میری پسلی میں درد ہے جہاں ٹکور کی گئی لیکن آرام نہ ہوا۔آخر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی جیب میں اینٹ کا ایک روڑا پڑا تھا جس کی وجہ سے پہلی میں درد ہو گیا۔پوچھا گیا کہ حضور! یہ کس طرح آپ کی جیب میں پڑ گیا۔فرما یامحمود نے مجھے یہ اینٹ کا ٹکڑا دیا تھا کہ سنبھال کر رکھنا۔میں نے جیب میں ڈال لیا کہ جب مانگے گا نکال دوں گا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کہتے ہیں میں نے کہا کہ مجھے دے دیں میں اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔فرمایا نہیں ، میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔تو آپ کو اولاد سے ایسی محبت تھی۔اور حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ ہم سب سے بہت پیار اور محبت کرتے تھے اور خاص طور پر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی مرزا مبارک احمد جو تھے ان سے بہت محبت تھی۔اور ہم سمجھتے تھے کہ اس سے زیادہ آپ کسی سے محبت نہیں کر سکتے۔لیکن یہ محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر غالب نہیں آئی۔جب اس لاڈلے بچے نے ایک دفعہ بچپن کی