خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد 13 54 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرا سروراحمد خلیفہ مسیح الامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23 جنوری 2015ء بمطابق 23 صلح 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وہ واقعات پیش کروں گا جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں بیان فرمائے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام اور آپ کا اس بارے میں معیار کیا تھا اور رد عمل کس طرح ہوتا تھا اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ لیکھرام کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ لاہور یا امرتسر کے سٹیشن پر تھے کہ پنڈت لیکھرام بھی وہاں آیا اور اس نے آپ کو آ کر سلام کیا۔چونکہ پنڈت لیکھرام آریہ سماج میں بہت بڑی حیثیت رکھتے تھے اس لئے جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھے وہ بہت خوش ہوئے کہ لیکھر ام آپ کو سلام کرنے آیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہ کی۔اور جب یہ سمجھ کر کہ شاید آپ نے دیکھانہیں کہ پنڈت لیکھر ام صاحب سلام کر رہے ہیں آپ کو اس طرف توجہ دلائی گئی تو آپ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ اسے شرم نہیں آتی کہ میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے آکر سلام کرتا ہے۔گویا آپ نے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ لیکھرام آیا ہے۔لیکن عام لوگوں کے نزدیک یہی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ کسی بڑے رئیس یا لیڈر سے ان کو ملنے کا اتفاق ہو جائے۔چنانچہ جب کوئی ایسا شخص ان کے پاس آتا ہے وہ بڑی توجہ سے اس سے ملتے ہیں لیکن اگر کوئی غریب آجائے تو پر واہ بھی نہیں کرتے۔“ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 8 صفحه 161)