خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 703
خطبات مسرور جلد 13 703 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء ہیں کہ وہ اپنی جان مال اور وقت قربان کرتے ہیں۔اور پھر میرے بارے میں کہا کہ اس کے دورے اور جماعت کی سرگرمیوں کی وجہ سے اب میں ہر سال جاپان آیا کروں گا اور اپنے والد کا ختم نبوت کا مشن مکمل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا۔تو یہ ان کی کوششیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے شراُن پر الٹائے۔آجکل ویب سائٹ پر جو خبر چل رہی ہے وہ اس دفعہ کے ”جنگ“ (اخبار) کی نہیں ہے بلکہ گزشتہ 2013ء کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم جاپانی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ جماعت احمدیہ کیونکہ غیر مسلم تنظیم ہے اس لئے اسے جاپان میں بین (ban) کیا جائے۔یہ تو ان کی عقل ہے۔یہ تو نا گویا میں مسجد کے افتتاح کا قصہ تھا۔پھر اسی طرح ٹوکیو میں بھی ایک فنکشن تھا۔ریسپشن تھی جس میں 63 جاپانی مہمان شامل ہوئے جس میں ایک بدھسٹ فرقہ کے چیف پریسٹ تھے۔نی ہون یو نیورسٹی کے چانسلر تھے۔معروف شاعر، بزنس ایڈوائز رمسٹر مارٹن تھے۔جاپان کے دوسرے بڑے اخبار آساہی کے چیف رپورٹر تھے۔مشہور سیاستدان کی ایک بیٹی جو خود بھی سیاستدان ہے، گاڑیاں بنانے والی ایک بڑی کمپنی کے صدر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے۔نی ہون یونیورسٹی کے چانسلر مسٹر اور انو ٹاٹ سونو (Mr Urano Tatsunoo) صاحب کہتے ہیں کہ میں سوچتا رہا کہ آپ ہمیں کیا بتائیں گے۔لیکن ہمیں منٹ کے اندر آپ نے گزشتہ تاریخ اور آئندہ آنے والے حالات کو جامع رنگ میں سمو دیا ہے۔آپ نے حقائق اور حوالوں سے بات کی۔جنگ کے نقصانات سے آگاہ کیا اور آئندہ جنگوں سے بچنے سے متنبہ کیا۔انتہائی مختصر وقت میں اسلام کی تعلیم بھی بتادی۔میرے خطاب کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ خطاب جس میں یہ سارا کچھ بیان ہوا انگریزی اور جاپانی زبان میں پورے جاپان میں پھیلانا چاہئے۔پھر آساہی اخبار کے چیف رپورٹر نے کہا کہ اگر جماعت احمد یہ جاپان اپنی رضا کارانہ خدمات کے ذریعہ ہمارے سامنے نہ آتی تو ہم اسلام کا یہ خوبصورت چہرہ دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔پھر ایک دوست یوکو صاحب نے کہا کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے خطاب نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ہمیں وہ باتیں بتائیں جن کے متعلق ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ہم تو امن اور سکون کے اس ماحول میں ان خطرات کا تصور بھی نہیں کر سکتے جن کا آپ نے ذکر کیا۔جنگ کتنی تباہ کن ہوتی ہے اور ایٹمی حملے کتنے ہولناک ہیں ہمیں یہ آج پتا چلا ہے۔پھر ایک صاحب نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما پر ایٹمی حملے کے بعد جماعت کے امام