خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 694 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 694

خطبات مسرور جلد 13 694 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء بدھسٹ اور عیسائی رہنماؤں کے علاوہ علاقے کے ممبران پارلیمنٹ، پروفیسر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ان شامل ہونے والوں کے جو تاثرات ہیں وہ بتاتا ہوں۔ایک صاحب ہیں اوسامو (Osamu) صاحب جو Church of Jesus Christ کے ڈائریکٹر آف پبلک افیئرز ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ یہ مسجد جاپانیوں اور اسلام کے درمیان ایک پل کا کر دار ادا کرے گی۔پھر ایک اور پریسٹ جن کا نام تائی جون ساتو ( Taijun Sato) ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک۔سٹ کے طور پر مسجد میں داخل ہو کر بہت اچھا لگا۔ہمارا تو خیال تھا کہ غیر مسلم اور بدھسٹ کے طور پر مسجد میں داخلہ منع ہے۔لیکن نہ صرف یہ کہ گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا گیا بلکہ نماز اور خطبہ میں شامل ہو کر ہمیں دلی خوشی ہوئی۔اسلام کے بارے میں ہمارا تاثر تبدیل ہو گیا۔پھرسٹی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے علاقے میں مسجد کی تعمیر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ جماعت احمدیہ کے موقف کے مطابق یہ مسجد انسانیت سے محبت کرنے والوں اور خدمت خلق پر یقین رکھنے والے لوگوں کا مرکز بنے گی۔پھراشینو ما کی (Ishinomaki) سٹی کے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے مسجد کی تقریب میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے۔کہتے ہیں یہ خوبصورت مسجد دیکھتے ہی میری سفر کی ساری تھکان دُور ہوگئی۔پھر انہوں نے کہا کہ جماعت احمد یہ جاپان نے زلزلوں میں خدمت کے ذریعہ جو نیک نامی کمائی ہے امید ہے کہ یہ مسجد اس نیک نامی کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔پھر Aichi ایجوکیشنل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر مینیسا کی ہیروکو (Minesaki Hiroko) صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جاپان میں جماعت احمدیہ کی مسجد کی تعمیر کی بہت ضرورت تھی۔دنیا میں اسلام کا خوبصورت چہرہ دکھانے کے لئے جماعت احمدیہ کا کردار بہت نمایاں ہے۔ہم امید رکھتے ہیں کہ اس مسجد سے جماعت کا تعارف مزید بڑھے گا اور دنیا میں حقیقی امن وسکون پھیلے گا۔وہاں جاپان کی جماعت چھوٹی سی جماعت ہے۔تقریب بارہ ممالک کے اتنے ہی احمدی لوگ فنکشن میں باہر سے بھی آئے ہوئے تھے۔اس لئے جمعہ کے دن اچھی رونق ہو گئی تھی۔انڈونیشیا سے، ملائیشیا سے، آسٹریلیا سے، کوریا سے، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، بھارت، یواے ای اور کانگو کنشا سا سے بھی کچھ گئے ہوئے تھے۔اور اللہ کے فضل سے جماعت نے ان سب کی مہمان