خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 693 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 693

خطبات مسرور جلد 13 693 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء پیغام پہنچانے کی بنیادرکھ دی گئی ہے میں چندلوگوں کے تاثرات بھی بیان کروں گا جس سے پتا چلتا ہے کہ جاپانیوں نے جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے بتائی گئی صحیح اسلامی تعلیم کو کس طرح دیکھا۔اور یہ ہونا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ذریعہ سے ہی یہ مقدر تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس طرح باقی دنیا کے ممالک میں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی تڑپ کا اظہار فرمایا ہے اور اس کے لئے کوشش بھی فرمائی اسی طرح جاپان کے متعلق بھی فرمایا کہ جاپانیوں کے واسطے ایک کتاب لکھی جائے اور کسی فصیح و بلیغ جاپانی کو ایک ہزار روپیہ دے کر ترجمہ کروایا جائے اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جائے۔ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحه (22) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جاپان میں نیک فطرت لوگ احمدیت قبول کریں گے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحه 385) الحمد للہ کہ آج قرآن کریم کے ترجمہ سمیت ہزاروں کی تعداد میں جماعت کی طرف سے جاپانیوں کے لئے ان کی زبان میں لٹریچر تیار ہو رہا ہے اور اب تو اس مسجد کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش پورا کرنے کے لئے ایسے دروازے کھولے ہیں کہ کروڑوں تک اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ لوگوں کے تاثرات پیش کروں گا جس سے پتہ چلتا ہے لوگوں کی اسلام کے بارے میں رائے بدل گئی ہے۔پہلے کچھ اور رائے تھی اب بالکل مختلف ہو گئی ہے۔اور انہوں نے کہا ہے، یہ بر ملا اظہار کیا کہ مسجد کے افتتاح اور فنکشن میں شامل ہو کر ہمیں اسلام کی تعلیم کا پتا چلا ہے اور اسلام کے بارے میں ہماری غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اسلام کا تعارف کروانا ہو تو مسجد بنادو، لوگوں کی توجہ پیدا ہوگی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 119 ) یہ بات بڑی شان کے ساتھ پوری ہوتی ہمیں ہر جگہ اور جاپان میں بھی نظر آتی ہے۔جب انسان دیکھتا ہے کہ مسجد کے فنکشن میں شامل ہو کے کس طرح لوگوں کی کایا پلٹی تو حیرت ہوتی ہے۔جس دن جمعہ تھا اس دن جمعہ کے وقت بھی جا پانی مہمان مسجد میں آئے ہوئے تھے۔میں جب گیا ہوں تو پہلے نقاب کشائی تھی۔کچھ باہر کھڑے تھے اور پھر وہ اندر آ کے مسجد میں بھی بیٹھ گئے اور خطبہ بھی سنا اور ہمیں نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھا۔تقریباً انچاس پچاس کے قریب جا پانی مہمان تھے جن میں شنٹو ازم کے ماننے والے