خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 688
خطبات مسرور جلد 13 688 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے بنیں۔جاپانی احمد یوں سے بھی میں کہوں گا کہ دین سیکھیں اور اپنے ایمان وایقان میں ترقی کریں۔یہ نہ دیکھیں کہ فلاں پیدائشی احمدی یا پرانا احمدی کیسا ہے۔اگر وہ دین کے معاملے میں کمزور ہے تو آپ اس کے لئے ہدایت کا باعث بن جائیں۔پہلے بھی کئی دفعہ میں کہ چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔جو نیک عمل کرے گا ، اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرے گا، اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت پھر اس کے ساتھ ہوگی۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی اس اصل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی گزارے اور یہ مسجد ہر احمدی کے ایمان میں بھی اور اس کی عملی حالت میں بھی ایک انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والی ہو۔صرف عارضی شوق اور جذبے سے مسجد بنانے والے نہ ہوں بلکہ حقیقت میں اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔مسجد کے بعض کو ائف بھی میں پیش کر دیتا ہوں۔مسجد کی زمین کا کل رقبہ 1000 مربع میٹر ہے۔دو منزلہ عمارت ہے۔جیسا کہ یہاں آنے والوں نے تو دیکھ لیا، دنیا والوں کو بتادوں کہ یہ علاقے کی مین سڑک کے بالکل اوپر ہے۔یہ سڑک جو ہے علاقے کی ساری بڑی سڑکوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ہائی وے کے ایگزٹ (exit) کے بہت قریب ہے بلکہ اسے دو ہائی ویز (highways) لگتی ہیں۔قریب ہی ریلوے سٹیشن موجود ہے۔اس ریلوے سٹیشن سے Nagoya کے انٹر نیشنل ایئر پورٹ تک سیدھی ٹرین جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی اس میں بڑی سہولتیں ہیں۔مسجد کا نام بہیت الاحد میں نے رکھا تھا۔یہاں تبرک کے لئے مسجد مبارک قادیان اور دار مسیح کی اینٹیں بھی نصب ہیں۔عمارت کی پہلی منزل پر مسجد کا مین ہال ہے۔یہ ہال جس میں بیٹھے ہوئے ہیں یہاں پانچ سو سے زائد نمازیوں کی گنجائش موجود ہے اور اوپر کی منزل میں لجنہ ہال ہے اور صحن ہے۔وہاں چھوٹی سی سائبان لگا کر کچھ فنکشن بھی کئے جاسکتے ہیں اور اس کو شامل کر لیا جائے تو سات آٹھ سونمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔دوسری منزل پر دفتر بھی ہے۔چھوٹی سی لائبریری ہے۔لجنہ ہال ہے۔مربی باؤس ہے۔گیسٹ رومز ہیں۔اور اس مسجد کی عمارت خریدی گئی تھی لیکن بعد میں اس میں تبدیلیاں کی گئیں۔اس کی وجہ سے اس کو مسجد کا رنگ دینے کے لئے چاروں کونوں پہ منارے بھی تعمیر کئے گئے اور گنبد بھی بنایا گیا۔اور یہ سڑک پر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کھینچنے کا بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔یہ مسجد نہ صرف جاپان بلکہ جو شمال مشرقی ایشیائی ممالک چین، کوریا، ہانگ کانگ، تائیوان وغیرہ ہیں، ان میں جماعت کی پہلی مسجد ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو باقی جگہوں میں بھی راستے کھولنے کا ذریعہ بنائے اور وہاں بھی جماعتیں ترقی کریں اور مسجدیں بنانے والی ہوں۔