خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 682
خطبات مسرور جلد 13 682 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء زمانے کے امام کو ماننے والے کے لئے ، خلافت سے وابستہ رہنے کا دعویٰ کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض اصولی باتیں بیان فرما دیں کہ ایک تو نمازوں کے قیام کی طرف توجہ رکھو کہ یہ تمہاری پیدائش کا بنیادی مقصد ہے۔اگر نمازوں کی ادائیگی نہیں ، اگر عبادتوں کی طرف توجہ نہیں تو پھر یہ دعوے بھی غلط ہیں کہ ہم حقیقی مسلمان ہیں۔یہ دعوے بھی غلط ہیں کہ ہم دنیا میں انقلاب پیدا کر دیں گے۔یہ دعوے بھی غلط ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو مان لیا ہے۔کیونکہ آپ نے تو اپنی آمد کا مقصد ہی بندے کو خدا تعالیٰ سے جوڑنے کا بتایا ہے۔اور پھر فرمایا کہ دوسرا مقصد ایک دوسرے کے حق ادا کرنا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 95) اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔اپنے مال میں سے بھی خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر انسانیت کی بھلائی اور بہتری کے لئے خرچ کرنے والے ہیں۔اور صرف اپنی زندگیوں میں ہی یہ انقلاب پیدا نہیں کرتے کہ تقویٰ پر چلنے والی زندگی گزارو بلکہ اپنے نمونے دکھا کر دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔انہیں بھی بتاتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔انہیں بتاتے ہیں کہ شیطان سے کس طرح بچ کر رہنا ہے۔پس اگر ہم اس زمانے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے فرستادے کے ماننے والے ہیں تو ہمیں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم پر جو اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہوا ہے جبکہ دوسرے مسلمان بکھرے پڑے ہیں ان کے پاس کوئی آواز نہیں ہے جو انہیں ایک ہاتھ کی طرف بلائے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر اور پھر آپ کے بعد آپ کے جاری نظام خلافت کے ذریعہ وہ تمکنت عطا فرمائی ہے کہ ہم ایک آواز پر اٹھنے اور بیٹھنے والے ہیں۔تمکنت صرف حکومت کا ملنا ہی نہیں ہے بلکہ ایک رعب کا ظاہر ہونا بھی ہے اور سکونِ دل کا پیدا ہونا بھی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی آئے گا جب حکومتیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آکر صحیح اسلام کو سمجھیں گی۔لیکن اس وقت بھی دنیا اب ہماری طرف دیکھنے لگ گئی ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم بتاؤ۔پس یہ بھی ایک تمکنت اور رعب ہے جواب دنیا پر اللہ تعالیٰ ڈال رہا ہے۔لیکن اس سے فائدہ اٹھانے والے وہی ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی بات کی طرف توجہ دینے والے ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس فضل کے وارث بننے کے لئے نیکیوں پر قائم ہو جاؤ اور اس کو پھیلاؤ اور برائیوں سے بچو اور دوسروں کو بچاؤ۔پس جب تک اس پر قائم رہو