خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 676 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 676

خطبات مسرور جلد 13 676 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک مریض آیا اور اس نے ذکر کیا کہ مولوی صاحب سے میں نے علاج کروایا تھا جس سے مجھے بڑا فائدہ ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس دن بیمار تھے مگر جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ اسی وقت اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہی مولوی صاحب کو تحریک کر کے یہاں لایا ہے اور اب ہزاروں لوگ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اگر مولوی صاحب یہاں نہ آتے تو ان لوگوں کا کس طرح علاج ہوتا۔پس مولوی صاحب کا وجود بھی خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔یہ شکر گزاری تھی لیکن غلو نہیں تھا۔(ماخوذ از الفضل 2 اگست 1956 ، صفحہ 2 جلد 10/45 نمبر 179) حضرت خلیفہ البیع الاول کی عاجزی کی جو انتہا تھی اس کا ذکر ایک صحابی کے حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے کیا ہے۔ایک صحابی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے کے لئے آیا آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے اور دروازے کے پاس جو تیاں پڑی تھیں۔ایک آدمی سیدھے سادے کپڑوں والا آ گیا اور آ کر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔یہ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ یہ کوئی جوتی چور ہے۔چنانچہ میں نے اپنی جوتیوں کی نگرانی شروع کر دی کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے۔کہنے لگے اس کے کچھ عرصے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ہے اس پر میں بیعت کرنے کے لئے آیا۔جب میں نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا جس کو میں نے اپنی بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا ( یعنی حضرت خلیفہ اول اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا۔آپ کی عادت تھی کہ آپ جوتیوں میں آ کر بیٹھ جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آجاتے۔پھر جب کہتے کہ مولوی نورالدین صاحب " نہیں آئے تو پھر کچھ اور آگے آجاتے۔اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے۔تو یہ صحابی پھر بیان کرتے ہیں کہ میں ان کی اولاد کو بھی کہا کرتا تھا کہ یہ مقام جو انہوں نے حاصل کیا اس طرح عاجزی سے حاصل کیا تھا۔(ماخوذ از الفضل 27 مارچ 1957 ، صفحہ 5 جلد 11/46 نمبر 74) بہر حال یہ تو تھی آپ کی عاجزی، اس شخص کی عاجزی جو علم ومعرفت میں بھی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔