خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 673 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 673

خطبات مسرور جلد 13 673 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 نومبر 2015ء نے سیر سے واپس آنا تو پھر آپ کے ساتھ ہو لینا۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ حضرت مولوی صاحب سیر کے لئے نہیں جاتے۔آپ نے فرمایا وہ تو روز جاتے ہیں۔اس پر آپ کو بتایا گیا کہ وہ سیر کے لئے ساتھ تو چلتے ہیں لیکن پھر بڑ کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور واپسی پر ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ سیر میں رکھتے اور جب آپ نے تیز ہو جانا اور حضرت خلیفہ اول نے بہت پیچھے رہ جانا تو آپ نے چلتے چلتے ٹھہر جانا اور فرمانا مولوی صاحب فلاں بات کس طرح ہے۔مولوی صاحب تیز تیز چل کر آپ کے پاس پہنچتے اور ساتھ چل پڑتے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھوڑی دیر کے بعد پھر تیز چلنا شروع کرتے آگے نکل جاتے تھوڑی دور جا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہر جاتے اور فرماتے مولوی صاحب فلاں بات اس اس طرح ہے۔مختلف باتیں ہوتیں۔مولوی صاحب پھر تیزی سے آپ کے پاس پہنچتے اور تیز تیز چلنے کی وجہ سے ہانپنے لگ جاتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔تھیں چالیس گز چل کر مولوی صاحب پیچھے رہ جاتے اور آپ پھر کوئی بات کہہ کر مولوی صاحب کو مخاطب فرماتے اور وہ تیزی سے آپ سے آ کر مل جاتے۔حضرت مسیح موعود کی غرض یہ تھی کہ اس طرح مولوی صاحب کو تیز چلنے کی عادت ہو جائے۔یہ صرف تیز چلنے کی مشق نہ ہونے کا نتیجہ تھا کہ مولوی صاحب آہستہ چلتے تھے۔چونکہ طب کا پیشہ ایسا ہے کہ اس میں عموما انسان کو بیٹھا رہنا پڑتا ہے اور اگر باہرکسی مریض کو دیکھنے کے لئے جانے کا اتفاق ہو تو سواری موجود ہوتی ہے اس لئے حضرت خلیفہ امسیح الاول کو تیز چلنے کی مشق نہ تھی ورنہ اخلاص آپ میں جس قدر تھا اس کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں’چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے۔(ماخوذ از تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 126-127) پھر ایک اور مثال ہے جس سے حضرت خلیفہ اول کا اخلاص بھی ظاہر ہوتا ہے اور تو گل بھی۔حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ مطب میں بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلی میں تھے۔وہاں حضرت میر صاحب سخت بیمار ہو گئے۔قولنج کا اتنا سخت حملہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن ہونا چاہئے۔بعض لوگوں نے کہا کہ بعض یونانی دواؤں سے بغیر آپریشن کے بھی آرام ہو جاتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے