خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 51
خطبات مسرور جلد 13 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء والے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق دنیا سے فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا ہے مکرم مولوی عبد القادر صاحب دہلوی درویش قادیان کا جو 10 جنوری 2015ء کو 97 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون۔مرحوم محترم ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔مدرسہ احمدیہ سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔قادیان میں حسب ذیل عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔شعبہ درویشی میں آپ قادیان کے محلہ احمدیہ میں جنرل سیکرٹری رہے۔پھر لمبا عرصہ نائب ناظر دعوت و تبلیغ اور معاون ناظر اعلیٰ رہے۔اس کے علاوہ ناظم جائیداد، قاضی سلسلہ، آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ، سیکرٹری بہشتی مقبرہ، نائب صدر انصار اللہ رہے۔مولوی صاحب مرحوم کا ایک مضمون جو " داستان در ویش بزبان درویش کے نام سے رسالہ مشکوۃ کے شمارہ میں نومبر 2003ء میں شائع ہوا تھا اس میں موصوف نے بیان کیا کہ حضرت میر محمد اسحق صاحب جو ہمیں مدرسہ احمدیہ میں اوپر کی کلاس میں حدیث شریف پڑھاتے تھے اور مجھ سے بہت محبت کرتے تھے انہوں نے کہا کہ مصر جا کر تعلیم حاصل کرنے کی درخواست دے دو۔انتظامیہ کو میں نے درخواست دے دی تو جواب آیا کہ پاسپورٹ بنوانے کے لئے جس کے پاس پیسے نہیں وہ مصر کیا لینے جائے گا۔یہ بات میں نے حضرت میر صاحب کو بتا دی۔کہتے ہیں دو دن کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہیں اور کہتے ہیں ”عبد القادر مصر“۔یہ خواب بھی میں نے حضرت میر صاحب کو سنا دی۔اتفاق یہ ہوا کہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا اور جماعت احمدیہ کی طرف سے نوجوان بھرتی کرائے جارہے تھے۔میں جماعت کی طرف سے چلا گیا اور فوج میں محکمہ سپلائی میں بھرتی ہو گیا۔فوجیوں کو آرام کی خاطر ہفتہ عشرہ کی چھٹیاں بھی ملتی تھیں۔اس طرح فوج میں جا کے یہ وہاں مصر بھی پہنچ گئے۔تو کہتے ہیں بہر حال خاکسار نے چھٹیاں گزارنے کے لئے بجائے ہندوستان آنے کے وہاں سے روم جانا پسند کیا۔وہاں گرجا گھر کے ساتھ ہی دائیں طرف ایک وسیع ہال بنا ہوا تھا۔میرے دریافت کرنے پر لوگوں نے بتایا کہ ہفتے میں ایک دفعہ سوموار کے دن یہاں پوپ صاحب خطاب کرتے ہیں اور معتقدین ان کا درشن کرتے ہیں۔پوپ وہاں روم میں آتے ہیں۔کہتے ہیں سوموار کا دن تھا میں بھی ہال میں چلا گیا۔وہاں لوگ ہال میں دائرہ