خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 52

خطبات مسرور جلد 13 52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء بنائے کھڑے تھے۔جنگ کے زمانے کی وجہ سے پوپ صاحب نے امن عالم کی بابت خطاب دیا اور پھر حاضرین کے قریب سے گزرتے ہوئے واپس تشریف لے جارہے تھے تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے قریب سے گزرتے ہوئے ان کی جانب اپنے دونوں ہاتھ مصافحے کے لئے بڑھا دیئے۔پوپ صاحب نے بھی اپنے ہاتھ میرے ہاتھوں میں دے دیئے اور ٹک گئے۔میں نے ان کا ہاتھ تھام کر اسلام کا پیغام دیا۔حضرت مسیح کی آمد ثانی کی بابت بتایا کہ وہ ظاہر ہو چکے ہیں اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔میں نے انہیں قبول کیا ہے اور آپ کو بھی قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔تو پوپ کو یہ پیغام انہوں نے پہنچا دیا۔کہتے ہیں انہوں نے میری باتیں سن کر خوشی کا اظہار کیا۔بعد میں تمام زائرین امریکن اور یورپین میرے گرد جمع ہو گئے اور میری جرات کی داد دینے لگے۔میں نے انہیں بھی تبلیغ کی اور پوپ صاحب سے ملاقات کی تفصیل حضرت خلیفہ ثانی کی خدمت میں تحریر کر دی۔پوپ کی تبلیغ اسلام کا ذکر تاریخ احمدیت جلد دہم میں حضرت خلیفہ ثانی کے عہد میں پوپ کو تبلیغ اسلام کے نام سے مذکور ہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 549-550 مع حاشیہ) آپ نے اس مضمون میں اپنی قبولیت دعا اور الہی تصرف کے تین ایمان افروز واقعات بھی بیان کئے ہیں۔آپ کو 1969ء میں حج کی توفیق بھی ملی۔مرحوم کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔سب کو ہی با وجود معاشی تنگی کے اعلیٰ تعلیم دلائی۔سبھی بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔بڑے بیٹے اسماعیل نوری صاحب کو جرمنی میں مختلف جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی توفیق ملی۔دور درویشی میں یہ پیدا ہوئے۔پہلے بیٹے تھے۔یہ لکھا ہے کہ ان کی اہلیہ کئی سال پہلے وفات پا گئی تھیں۔خودا کیلے رہتے تھے۔اس لئے بیٹیوں نے ان کو جرمنی آنے کے لئے کہا۔آپ نے کہا کہ آئندہ ایسی بات مجھ سے نہ کرنا۔سالہا سال اکیلے ہی قادیان میں زندگی گزاری اور آخری دم تک عہد درویشی کو نبھانے کی سعادت پائی۔مرحوم موصی تھے۔قادیان بہشتی مقبرہ میں قطعہ درویشاں میں تدفین عمل میں آئی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلائے۔دوسرا جنازہ مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ بشیر احمد صاحب حافظ آبادی مرحوم کا ہے جو درویش قادیان تھے۔3 جنوری 2015ء کو 83 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔آپ کے والد مکرم شفیع احمد صاحب مرحوم مودھا (یوپی) کے صدر جماعت تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کہ 1947ء کے بعد تقسیم ملک کے حالات کی وجہ سے پاکستان میں شادیاں کروانا مشکل ہورہا